The news is by your side.

Advertisement

سعودی عرب میں خواتین مردوں پر سبقت لے گئیں

ریاض: وژن 2030 کے تحت سعودی عرب میں خواتین کی نمائندگی اور ملازمت کے تمام شعبوں میں کردار نمایاں نظر آرہا ہے۔

تفصیلات کے مطابق سعودی عرب میں ملازمت کے مختلف شعبوں میں خواتین بڑھ چڑھ کرحصہ لے رہی ہیں جبکہ سعودائزیشن کے تحت بھی عورتوں کو بھرپور مواقع فراہم کیے جارہے ہیں۔

غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق سعودی عرب کی قومی سیاحتی کمیٹی کا کہنا ہے کہ ہوٹلنگ سیکٹر میں کام کرنے والے سعودیوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ ایک اندازے کے تحت ہوٹلنگ سے منسلک تمام شعبوں میں خواتین کی تعداد 20 ہزار سے رائد ہوچکی ہے، اور تعداد میں اضافے کی توقع ہے۔

سعودی قومی کمیٹی برائے سیاحت کی جانب سے شایع ہونے والی ایک سروے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سال 2018 میں ہوٹلنگ کے شعبے کا تناسب گزشتہ برسوں کے مقابلے میں کافی زیادہ ہے۔ اور 2030 تک خواتین کے کرداد میں مزید اضافہ ہوگا۔

رپورٹ میں کہنا تھا کہ سعودائزیشن کی بدولت ہوٹلنگ کے شعبوں میں خواتین کی نمائندگی بڑھی جبکہ سعودائزیشن کا تناسب 3.1 تک بڑھا ہے۔ خیال رہے کہ سعودائزیشن سے مراد سعودی عرب میں غیرملکیوں کی جگہ سعودی شہریوں کی نمائندگی اور ملازمت کے مواقع دینا ہے۔

واضح رہے کہ ہوٹلنگ کے شعبے میں کام کرنے والے سعودیوں کا تناسب 22.3 فیصد تک پہنچ چکا ہے جن کی مجموعی تعداد ایک لاکھ 22 ہزار کے قریب ہے۔ سعودی کارکنوں میں مرد و خواتین شامل ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں