The news is by your side.

Advertisement

نیوزی لینڈ میں اسکارف کی مانگ بڑھ گئی، پارک میں 15 ہزار افراد کا مسلمانوں سے اظہارِ یک جہتی

کرائسٹ چرچ: نیوزی لینڈ میں مساجد پر حملے کے بعد اسکارف کی مانگ بڑھ گئی، مسلمانوں سے اظہارِ یک جہتی کے لیے عیسائی خواتین بھی اسکارف پہننے لگیں۔

تفصیلات کے مطابق نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں 15 مارچ کو دو مساجد پر حملے کے بعد پورے ملک میں خواتین میں اسکارف کی مانگ بڑھ گئی ہے۔

عیسائی خواتین اظہارِ یک جہتی کے لیے اسکارف پہننے لگی ہیں، اسکارف تیار کرنے میں بھی غیر مسلم خواتین حصہ لے رہی ہیں۔

دوسری طرف سانحہ کرائسٹ چرچ پر مسلمانوں سے اظہارِ یک جہتی کے لیے نارتھ ہیگلے پارک میں 15 ہزار افراد جمع ہو گئے، تقریب میں حملے کے متاثرہ خاندانوں اور امام مسجد نے بھی شرکت کی۔

ایک خاتون کا کہنا تھا کہ یہ خوف ناک حملہ ہماری پہچان نہیں ہے، مجھے خوشی ہے کہ آج کے دن میں نے اسکارف پہن کر مسلمانوں کے ساتھ اظہار یک جہتی کیا۔

شہید سید اریب احمد

ادھر کرائسٹ چرچ میں شہید سید اریب احمد کا جسد خاکی پیر کو کراچی پہنچے گا، ایئر پورٹ کارگو پر جسد خاکی کی وصولی کے انتظامات مکمل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  نیوزی لینڈ کی وزیرِ اعظم جیسنڈا کو اسلام کی دعوت

ایئر پورٹ منیجر کا کہنا ہے کہ غیر ملکی ایئر لائن سے مسلسل رابطے میں ہیں، جسد خاکی پرواز ای کے 600 سے صبح 10 بجے کراچی پہنچے گا، اور ایئر پورٹ پر ہی ورثا کے حوالے کیا جائے گا۔

سی اے اے کے مطابق شہید اریب کے جسد خاکی کو گھر تک پہنچانے کے لیے ایمبولینس موجود ہوگی، شہید کی نماز جنازہ کل سہ پہر 3 بجے سنگم گراؤنڈ دستگیر 9 میں ادا کی جائے گی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں