گورنر پنجاب کے دستخط، تحفظ خواتین بل قانون کی حیثیت اختیارکرگیا -
The news is by your side.

Advertisement

گورنر پنجاب کے دستخط، تحفظ خواتین بل قانون کی حیثیت اختیارکرگیا

لاہور: پنجاب اسمبلی سے منظورکردہ تحفظ خواتین بل گورنرپنجاب کے دستخط کے بعد قانون کی حیثٰیت اختیارکرگیا ہے۔

پنجاب کی اسمبلی نے خواتین کو گھریلو تشدد، نفسیاتی اور جذباتی دباؤ، معاشی استحصال اور سائبر کرائمز سے تحفظ دینے کا قانون جمعرات کو متفقہ طورپرمنظورکرگیا تھا۔

گورنر پنجاب رفیق رجوانہ کے دستخط کے بعد تحفظ خواتین بل کو قانونی حیثیت مل گئی۔ بل کے تحت پنجاب کے تما اضلاعمیں تحفظ خواتین بل پرعملدرآمد کیلئے علیحدہ سنٹرز تشکیل دیے جائیں گے۔

نئے قانون کے تین حصے ہیں ، پہلا پروٹیکشن آرڈر جس کی بدولت خواتین ہراساں کرنے والوں یا پھر جسمانی تشدد کرنے والوں کے خلاف عدالت سے پروٹیکشن آرڈر لے سکیں گی۔

ریزیڈینس آرڈ کے تحت خاتون کو اس کی مرضی کے بغیر گھر سے بے دخل نہیں کیا جاسکے گا۔

مانیٹری آرڈر کے تحت خواتین اپنی تنخواہ یا اپنی جائیداد سے ہونے والی آمدنی کو اپنے اختیارمیں رکھنے اور اپنی مرضی سے خرچ کرنے کے قابل بھی ہوسکیں گی۔

’اس قانون پر عمل درآمد کے لیے ہر ضلع میں وائلنس ایگنسٹ ویمن سینڑز بنائے جارہے ہیں۔ یہ جنوبی ایشیا کے پہلے ایسے سینٹر ہیں جہاں تمام متعلقہ ادارے ایک ہی چھت کے نیچے موجود ہوں گے۔ جیسے پولیس پراسیکیوشن فرائنزک میڈیولیگل ماہر نفسیات اورشیلڑہوم وغیرہ۔‘

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں