site
stats
صحت

امریکا میں جیلی بینز کی کمپنی پر مقدمہ درج

امریکی ریاست کیلیفورنیا میں ایک خاتون نے ایک کینڈی کمپنی پر مقدمہ دائر کردیا۔ خاتون کا کہنا ہے کہ مذکورہ کمپنی کا یہ دعویٰ کہ وہ صحت کے لیے مفید جیلی بینز بناتے ہیں، بالکل لغو ہے۔

جیسیکا گومز نامی ان خاتون نے کمپنی کی کھلاڑیوں کے لیے مخصوص جیلی بینز استعمال کیں جن کے بارے میں کمپنی کا دعویٰ ہے کہ یہ کھلاڑیوں کے لیے ڈائٹ سپلیمنٹ کی حیثیت رکھتی ہیں اور اور ان کی جسمانی کارکردگی اور توانائی میں اضافہ کرسکتی ہے۔

تاہم خاتون کا کہنا ہے کہ کمپنی نے یہ نہیں بتایا کہ ان جیلی بینز میں دراصل چینی کی کثیر مقدار شامل کی جاتی ہے جو وقتی طور پر توانائی میں اضافہ کردیتی ہے۔

خاتون کا کہنا ہے کہ کمپنی نے غلط بیانی کرتے ہوئے اس شوگر کو ایواپریٹڈ کین جوس کا نام دے رکھا ہے جس سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ گویا یہ پھلوں سے کشید کردہ رس ہے جو جیلی بین میں شامل کیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں: کینڈیز کھانے کے فوائد

دوسری جانب کمپنی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ان کی ویب سائٹ پر جیلی کے بارے میں واضح طور پر درج کیا گیا ہے کہ ایک جیلی بین میں کتنی شوگر شامل کی جاتی ہے۔

تاہم خاتون کے دعوے کے عین مطابق جیلی کے پیکٹ پر اجزائے ترکیبی میں ایسا کچھ بھی نہیں لکھا جاتا اور جیلی کو ایواپریٹڈ کین جوس سے بنایا گیا قرار دیا جاتا ہے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top