The news is by your side.

Advertisement

وہ خواتین جو ہمّت اور بہادری کی روشن مثال ہیں

آج دنیا خواتین کا عالمی دن منارہی ہے جس کا مقصد مختلف معاشروں میں عورت کی سماجی، معاشی، سیاسی جدوجہد پر خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے ہر سطح پر اس کے مثبت اور مثالی کردار کو سراہنا اور عورت کی اہمیت کو تسلیم کرنا ہے۔

آج اس دن کی مناسبت سے تقاریب میں دانش وَر اور خواتین کے حقوق کی علم بردار تنظیموں کی جانب سے مطالبہ کیا جاتا ہے کہ ہر شعبہ ہائے حیات میں‌ عورت کو بلاامتیاز بنیادی حقوق دے کر اس کی صلاحیتوں سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھایا جائے اور اسے انفرادی اور اجتماعی ترقی و خوش حالی کے لیے فرسودہ رسم و رواج کی بندشوں سے آزاد کرکے آگے بڑھنے کا موقع دیا جائے۔

پچھلے چند برسو‌ں کے دوران پاکستان میں ’عورت مارچ‘ متنازع اور اس موقع پر سوشل میڈیا پر مباحث اس قدر بڑھے کہ اس دن کی اہمیت اور مقاصد گویا دھندلا گئے، لیکن اس سے قطع نظر تاریخی طور پر بھی دیکھا جائے تو متحدہ ہندوستان اور تقسیم کے بعد پاکستان میں کئی خواتین ایسی گزری ہیں جن کی قربانیاں اور سیاسی و سماجی جدوجہد ہمارے لیے مثال ہے۔

یہاں‌ ہم ہندوستان کی آزادی کی تحریک سے لے کر قیامِ پاکستان تک ایثار و قربانی کا پیکر بن کر حقوق و فرائض کی انجام دہی کے ساتھ بحیثیت قوم اپنے حقوق کے حصول کی بے مثال جدوجہد کرنے والی چند خواتین کا تذکرہ کررہے ہیں۔

برصغیر پاک و ہند کی کئی خواتین ایسی بھی ہیں‌ جنھوں نے اس وقت آزادی اور حقوق کے لیے لڑنے والے اپنے باپ، بھائیوں اور شوہر کے لیے ان کی قید و بند، مفروری اور جلسے جلوسوں میں‌ شرکت کے دوران بے شمار قربانیاں دیں اور ثابت قدم رہیں، جب کہ کئی خواتین نے میدانِ عمل میں مردوں کے شانہ بشانہ ہر محاذ پر جنگ لڑی۔ ان میں بی امّاں کا نام ہمیشہ زندہ رہے گا جو جوہر برادران(شوکت علی، محمد علی) کی والدہ تھیں اور جنھوں نے اپنے بیٹوں کو تحریکِ خلافت کے لیے مر مٹنے کا حکم دے کر میدانِ عمل میں اتارا اور تنہا حالات کا مقابلہ کیا۔

اسی طرح محمد علی جوہرؔ کی اہلیہ امجدی بیگم کا نام بھی تاریخ میں ان کی قربانیوں اور ایثار کی بدولت رقم ہے جب کہ اردو کے نام ور ادیب اور شاعر حسرتؔ موہانی کی شریکِ حیات جن کا نام نشاط النساء بیگم ہے، بھی حسرت کی جیل یاتراؤں اور تحریکی جدوجہد کے دوران ان کا ساتھ دیتی اور حوصلہ بڑھاتی رہیں۔ اس حوالے سے ایک نام سیف الدین کچلو کا ہے جن کی شریکِ حیات سعادت بانو کچلو تھیں جنھوں نے ہر قسم کے حالات کا مقابلہ کیا اور آزادی کی جدوجہد میں اپنے شوہر کا ساتھ دیتی رہیں، حیدرآباد کے معزز گھرانے سے تعلق رکھنے والی اور بیرسٹر خواجہ عبدالحمید کی اہلیہ بیگم خورشید خواجہ، بی بی امت الاسلام جو پٹیالہ کے ایک رئیس اور محبِ وطن راجپوت خاندان سے تعلق رکھتی تھیں، خدیجہ بیگم، زبیدہ بیگم داؤدی (بیگم شفیع داؤدی)، کنیزہ سیّدہ بیگم (کانگریس راہ نما سیّد صلاح الدین کی چھوٹی بہن)، منیرہ بیگم (بدرالدین طیب جی کی بھتیجی) وہ خواتین ہیں جو کسی نہ کسی شکل میں اور انگریز راج کے خلاف اپنے مردوں کا ساتھ دیتی رہیں۔

تقسیم سے پہلے اور قیامِ پاکستان کے بعد مادرِ ملت محترمہ فاطمہ علی جناح، بیگم رعنا لیاقت، بیگم جہاں آرا شاہنواز، بیگم زری سرفراز جیسی خواتین نے اپنی جدوجہد اور عملی میدان میں‌ محاذ پر ثابت قدم رہ کر ثابت کیا کہ عورت کسی بھی طرح کم زور نہیں اور سماج کے ہر شعبے میں اپنا کردار احسن طریقے سے نبھاسکتی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں