The news is by your side.

Advertisement

کیا لکڑی سے تعمیر کردہ عمارتیں‌ زیادہ پائیدار ہوتی ہیں؟

زمانۂ قدیم میں جب آج کی طرح تعمیراتی سامان اور سہولیات میسر نہیں تھیں۔ انسان نے مختلف دھاتوں اور پلاسٹک یا دوسرا سامان ایجاد نہیں کیا تھا تو وہ مٹی، پتھر اور لکڑیوں سے کام لیتا تھا۔ اپنے گھروں اور دوسری تعمیرات کے لیے درختوں کی لکڑی، شاخیں، چھال اور مخصوص درختوں کے پتوں کا استعمال کرتا تھا۔ آج تعمیرات باقاعدہ فن اور اسے ایک صنعت کا درجہ حاصل ہے۔ اس شعبے میں حیرت انگیز ترقی کی بدولت آج کثیر منزلہ عمارتیں دیدنی ہیں۔

ہمارے ہاں قیامِ پاکستان سے پہلے کی عمارتوں میں لکڑی کا کام قابلِ دید ہے۔ تعمیراتی مقصد کے لیے مخصوص درختوں کی لکڑی  استعمال کی جاتی ہے جو  پائیدار  اور  موسم سے لڑنے کے قابل ہوتی ہے۔ ان  میں  شہتیر ، شاہ بلوط، صنوبر، ساگوان اور چیڑ کی لکڑی کو تعمیراتی کام کے لیے بہترین مانا جاتا ہے۔

ماہرین کے مطابق بعض درختوں کی لکڑی نہایت پائیدار، محفوظ اور مضبوط ہوتی ہے جن کی مدد سے چھت، بلند و بالا ستون، محرابیں، چوکھٹیں اور بڑے اور بھاری دروازے تعمیر کیے جاسکتے ہیں۔ ان پر آرائشی کام، کندہ کاری اور  رنگ و روغن کر کے ان کی خوب صورتی اور دل کشی میں اضافہ کیا جاتا ہے۔

تعمیراتی مقاصد کے لیے لکڑی کے استعمال کے چند فائدے یہ ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ لکڑی گرد و پیش میں موجود کاربن ڈائی آکسائیڈ کو ختم کرنے میں مدد دیتی ہے۔

موسمی اعتبار سے بھی لکڑی کا تعمیراتی شعبے میں استعمال اہمیت رکھتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ گرمی اور سردی  میں بھی گھروں اور  عمارتوں کا اندرونی درجۂ حرارت کنٹرول میں رکھتی ہے۔

یہ بھی کہا جاتا ہے کہ لکڑی باہر کی آوازیں یا شور بھی عمارتوں کے اندر آنے سے روکتی ہے.

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں