برین ٹیومر سے آگاہی کا عالمی دن -
The news is by your side.

Advertisement

برین ٹیومر سے آگاہی کا عالمی دن

دنیا بھر میں آج دماغی کینسر یا برین ٹیومر اور اس سے بچاؤ سے متعلق آگاہی کے لیے برین ٹیومر کا دن منایا جارہا ہے۔ دنیا بھر میں ڈیڑھ کروڑ سے زائد افراد دماغی کینسر کا شکار ہیں۔

عالمی ادارہ صحت ڈبلیو ایچ او کے مطابق برین ٹیومر کا شکار خواتین کی تعداد مردوں سے کہیں زیادہ ہے۔

ادارے کا کہنا ہے کہ دماغی رسولی کا مرض تیزی سے پھیل رہا ہے اور سنہ 2035 تک اس مرض کا شکار افراد کی تعداد ڈھائی کروڑ سے تجاوز کر جائے گی۔

برین ٹیومر کی وجہ

ماہرین کے مطابق اب تک دماغی رسولی بننے کی واضح وجوہات طے نہیں کی جاسکی ہیں تاہم بہت سے بیرونی و جینیاتی عوامل اس مرض کو جنم دے سکتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ دماغ میں رسولی بننے کی ایک اہم وجہ تابکار شعاعوں میں وقت گزارنا بھی ہے۔

اس ضمن میں موبائل فون ایک اہم کردار ادا کر سکتے ہیں جن کا مستقل اور حد سے زیادہ استعمال اور ان سے نکلنے والی شعاعیں دماغ پر تباہ کن اثرات مرتب کرتی ہے۔

مزید پڑھین: ذہنی تناؤ اور پریشانی کینسر کا سبب

کچھ عرصہ قبل ایک تحقیق کی گئی جس کے مطابق وہ لوگ جو اعلیٰ تعلیم حاصل کرتے ہیں ان میں دماغ کے جان لیوا کینسر ہونے کا زیادہ امکان ہوتا ہے بہ نسبت ان کے جو 9 سال کی اوسط اسکول کی تعلیم حاصل کرتے ہیں۔

لندن کے انسٹیٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ میں ہونے والی اس تحقیق کے سربراہ کے مطابق یونیورسٹی گریجویٹ افراد میں دماغ کا ٹیومر ہونے کا امکان 19 فیصد زیادہ ہوتا ہے جبکہ خواتین میں یہ امکان 23 فیصد بڑھ جاتا ہے۔

ماہرین کے مطابق حتمی طور پر یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ تعلیم کا کینسر سے کیا تعلق ہے یا وہ کیا وجہ ہے جو زیادہ تعلیم یافتہ افراد میں کینسر کی افزائش کا سبب بنتی ہے، تاہم تحقیق کے یہ نتائج خاصے حیرت انگیز اور مایوس کن ہیں۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں