The news is by your side.

Advertisement

چاکلیٹ کا عالمی دن چاکلیٹ کھا کر منائیں

کیا آپ جانتے ہیں آج دنیا بھر میں بچوں اور بڑوں کی پسندیدہ چاکلیٹ کا عالمی دن منایا جارہا ہے؟

کہا جاتا ہے کہ اب سے 467 سال قبل آج ہی کے دن یورپ میں پہلی بار چاکلیٹ متعارف کروائی گئی تھی اور یہ دن اسی کی یاد میں منایا جاتا ہے۔

دنیا بھر میں چاکلیٹ کی مختلف اقسام پائی جاتی ہیں جن میں تلخ، کھٹے اور پھیکے ذائقے جبکہ سفید، سیاہ اور بھورے رنگ کی چاکلیٹس شامل ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بظاہر دانتوں کے لیے نقصان دہ سمجھی جانے والی چاکلیٹ جسمانی و دماغی صحت پر نہایت مفید اثرات مرتب کرتی ہے۔

چاکلیٹ کھانے کے فوائد

آئیں دیکھتے ہیں کہ چاکلیٹ کھانے سے ہم کیا کیا فوائد حاصل کرسکتے ہیں۔

ایک امریکی طبی جریدے میں چھپنے والی ایک تحقیق کے مطابق باقاعدگی سے چاکلیٹ کھانا دماغی کارکردگی میں اضافہ کرتا ہے۔

چاکلیٹ کھانے والوں کی یادداشت ان افراد سے بہتر ہوتی ہے جو چاکلیٹ نہیں کھاتے یا بہت کم کھاتے ہیں۔

دراصل چاکلیٹ دماغ میں خون کی روانی بہتر کرتی ہے جس سے یادداشت اور سیکھنے کی صلاحیت میں اضافہ ہوتا ہے۔

ایک تحقیق کے مطابق ناشتے میں چاکلیٹ کھانے والے افراد دن بھر چاک و چوبند رہتے ہیں اور وہ اپنے کاموں میں زیادہ صلاحیت اور مستعدی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔

براؤن چاکلیٹ جسم کو نقصان پہنچانے والے کولیسٹرول میں کمی کر کے مفید کولیسٹرول کو بڑھاتی ہے۔

یہی چاکلیٹ بلڈ پریشر کو معمول کی سطح پر رکھنے میں بھی مددگار ہے۔

براؤن چاکلیٹ دماغ میں سیروٹونین نامی مادہ پیدا کرتی ہے جس سے ذہنی دباؤ سے نجات ملتی ہے۔ چاکلیٹ ہمارے جسم کی بے چینی اور ذہنی تناؤ میں 70 فیصد تک کمی کرسکتی ہے۔

یہ جسم میں موجود پولی فینول کو بھی بڑھاتی ہے جس سے خون میں آکسیجن کی روانی بہتر ہوتی ہے۔

چاکلیٹ میں موجود فلیونولز دل کی شریانوں کو آرام پہنچا کر انہیں سوزش سے بچاتے ہیں اور دوران خون میں بہتری پیدا کرتے ہیں جس سے امراض قلب کا خطرہ کم ہوجاتا ہے۔

یہ پٹھوں کے خلیات کی کارکردگی میں بھی اضافہ کرتی ہے اور وہ زیادہ آکسیجن کو خون میں پمپ کرتے ہیں۔

چاکلیٹ قوت مدافعت میں بھی اضافہ کرتی ہے۔

سیاہ چاکلیٹ کھانسی کے لیے نہایت مفید ہے اور یہ دائمی یا موسمی کھانسی کو ختم کرسکتی ہے۔

تو کیا خیال ہے آپ کا، اتنے سارے فوائد جاننے کے بعد آپ کون سی چاکلیٹ کھانا پسند کریں گے؟


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں