The news is by your side.

Advertisement

شہری دفاع کا عالمی دن: احتیاطی تدابیرہرشہری کے لیے

آج دنیابھرمیں شہری دفاع (سول ڈیفنس) کا عالمی دن منایا جارہا ہے، جنگ عظیم اول سے پہلے ایسے کسی ادارے کا تصور نہیں تھا، لیکن جنگ کی تباہ کاریوں نے ایسے ادارے کے قیام کی ضرورت کو ناگزیرقراردیا۔

آج سے کئی دہائیاں قبل جب امریکا نے جاپان کے دوشہروں ہیروشیما اور ناگا ساکی میں ایٹم بم گرائے تو وہاں کے شہری تربیت یافتہ نہ تھے، جس کے نتیجے میں لاکھو ں افراد مارے گئے، زخمیوں کی بڑی تعداد اس لئے ہلاک ہوگئی کہ انھیں بچانے کے لیے تربیت یافتہ رضا کار موجود نہ تھے۔

شہری دفاع کی تربیت حاصل کر کے نہ صرف اپنی زندگی بچائی جا سکتی ہیں بلکہ دوسروں کی زندگی کو بھی بچایا جا سکتا ہے ۔ شہری دفاع کے اصولوں پر عمل کر کے قدرتی آفات، زلزلوں،طوفانوں، اور سیلاب کی تباہ کاریوں کے دوران جانی ومالی نقصانات کو کم سے کم کیا جا سکتا ہے۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان ان دنوں کشیدگی اپنے عروج پر ہے ،سرحدی حدود کی خلاف ورزی پر پاکستان بھارت کے دو جہاز گراچکا ہے اور ان کے پائلٹ کو بھی حراست میں لیا گیا تھا۔پاکستان نے جذبہ خیر سگالی کےتحت بھارتی پائلٹ کو رہا کرنے کا اعلان کردیا ہے اس کےباوجود بھارت کا جنگی جنون کم ہونے کا نام نہیں لے رہا، ایسے ماحول میں شہری دفاع کے کچھ اہم اصول شہریوں کو جاننا بے حد ضروری ہیں۔ یہ ایسے اصول ہیں جن کا اطلاق کسی بھی ہنگامی صورت حال میں کیا جاسکتا ہے۔

اہم اشیا ایک جگہ رکھیں


شہریوں کو چاہیے کہ جنگ یا کسی بھی ہنگامی صورت حال جیسے ممکنہ سیلاب وغیرہ میں اپنے تمام اہم ڈاکیومنٹس، نقدی اور زیورات وغیرہ کسی ایک بیگ میں کرکے اس بیگ کوخارجی دروازے کے قریب محفوظ جگہ رکھیں ، جہاں سے کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں اسے فوراً اٹھایا جاسکے۔

فضائی حملے


یاد رکھیں جنگ کے دنوں میں اگر فضائی حملہ ہونے والا ہو تو اونچی نیچی آواز میں ایک منٹ تک سائرن بجایا جاتا ہے ، اس کا مطلب ہوتا ہے کہ شہری فوری طور پر پناہ گاہوں کا رخ کریں۔ حملہ ختم ہونے کی صورت میں ایک منٹ تک یکساں ردھم پر سائرن بجایا جاتا ہے۔

فضائی حملوں سے بچنے کے لیے رات کے اوقات میں غیر ضروری روشنی کے استعمال سے بالکل گریز کریں۔ اہم عمارتوں اور پلوں وغیرہ سے دور رہیں کہ جنگ میں عموماً انہیں زیادہ نشانہ بنایا جاتا ہے۔ حملے دوران کسی تہہ خانے کا رخ کریں، وہ نہ ہوتو عمارت کے اندرونی حصے میں قیام کریں ، بیرونی دیواروں والے حصے سےدور رہیں۔

طبی امداد


بنیادی طبی امداد ایک ایسا عمل ہےجس کے طریقے سے ہر شخص کو آگاہی ہونا لازمی ہے، چاہے جنگ کے دن ہوں یا امن کے ، بنیادی طبی امداد کی ضرورت کبھی بھی پڑسکتی ہے۔ اس کے لیے آپ اپنےشہر کے سول ڈیفنس ڈیپارٹمنٹ ، کسی اسکاؤٹ تنظیم یا پھر تربیت یافتہ اہلکارسے تربیت لے سکتے ہیں۔

اپنے گھر میں فرسٹ ایڈ باکس ضرور رکھیں اور اس میں موجود اشیا کے استعمال کے طریقہ کار کے بارے میں اچھے سے معلومات حاصل کریں۔ یاد رکھیں دواؤں کی ایک مقررہمعیاد ہوتی ہے، لہذا اس باکس کی باقاعدگی سے جانچ پڑتال کریں۔

یاد رکھیں اگر تربیت یافتہ طبی عملہ زخمیوں کی مدد کے لیے بروقت پہنچ سکتا ہے تو حتی الامکان کسی زخمی کو خود اٹھانے سے گریز کریں، اگر طبی مدد آنے کا امکان نہ ہو تو انتہائی احتیاط سے زخمیوں کو اٹھایا جائے ۔ اس کی تربیت یو ٹیوب سے با آسانی حاصل کی جاسکتی ہے۔

قومی نظم و ضبط


جنگ یا کسی بھی ہنگامی صورت حال میں سب سے اہم چیز نظم وضبط ہوتی ہے ، بلا سبب پریشان نہ ہوں اور نہ دوسروں کو کریں۔ ہنگامی حالات میں جو چیز سب سے تیز گردش کرتی ہے وہ افواہ ہے، کوشش کریں کہ کسی بھی صورت افواہوں کی ترسیل میں حصہ نہ بنیں ، اور نہ ہی افواہوں پر کان دھریں۔ حتمی معلومات ہی آپ کو باخبر رکھ سکتی ہیں، افواہیں صرف عوام کو گمراہ کرنے کے لیے پھیلائی جاتی ہیں۔

خوراک ذخیرہ کریں


امن یا جنگ کسی بھی صورتحال میں اپنی عادت بنائیں کہ آپ کی بنیادی ضرورت کی اشیا جیسا کہ گھریلو سودا سلف وغیرہ ہے، ہمیشہ کم از کم ایک ماہ کا سامان آپ کے پاس اسٹاک میں موجود ہوں۔ ساتھ ہی ساتھ گھر میں ایک مناسب مقدار میں پانی ذخیرہ کرنے کی بھی عادت ڈالیں کہ یہ عادت صرف جنگ نہیں بلکہ بہت سی سماجی مشکلات میں بھی آپ کے کام آئے گی، جیسے ایک دم نوکری جانے کی صورت میں آپ کے پاس بنیادی ضروریات کا کم از کم ایک ماہ کا اسٹاک ہوگا۔ پانی کی سپلائی متاثر ہونے کی صورت میں آپ کے پاس پانی بھی موجود ہوگا۔

کچھ اور اہم اشیاء


اگر آپ کا ملک جنگی حالات سے گزر رہا ہے تو اپنی گاڑی میں ہمیشہ ایندھن بھر کررکھیں ۔ یہ عادت عام زندگی میں بھی اپنائیں کہ یہ آپ کو کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں ایک ذہنی بے فکری عطا کرتی ہے کہ کہیں بھی جانے کے لیے آپ کے پاس فیول ہے۔

بچوں کی ضروریا ت کی اشیاء جیسے ڈائپر ، خشک دودھ ، بسکٹ، چاکلیٹ وغیرہ ایک مناسب مقدار میں گھر میں رکھنے کو اپنی عادت کا حصہ بنائیں ۔ یاد رکھیں بچوں کی ضروریات کسی جنگی ایمرجنسی سے کم نہیں ہوتی ہیں۔

خراب حالات میں اطلاعات کے حصول کے لیے ایک ریڈیو، ٹارچ اور اسکے اضافی بیٹری سیل، رسیاں وغیر ہ اپنے پاس رکھیں۔

یاد رکھیں ہنگامی حالات صرف جنگ میں ہی پیش نہیں آتے، کبھی کسی قدرتی آفت یا سیاسی صورتحال کی وجہ سے بھی آپ کو ایسے حالات سے گزرنا پڑسکتا ہے ، لہذا ایسے حالات کی ہمیشہ ذہنی طور پر تیاری رکھیں اور اس دوران اپنے اعصاب کو پر سکون رکھیں کہ ہنگامی حالات میں مضبوط اعصاب والا شخص ان مسائل سے باآسانی نبرد آزما ہوسکتا ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں