سیاست کو کھیل کے میدان میں لا کر کھیل سے کھلواڑ تو جیسے بھارت کا پسندیدہ کھیل بن چکا ہے۔ پہلے اس کا نشانہ صرف پاکستان ہی ہوتا تھا، مگر اب خطے کی بدلتی سیاسی صورتحال میں بنگلہ دیش اس کے نئے ہدف کی صورت میں سامنے آیا ہے اور انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے ایک فیصلے نے ٹی 20 ورلڈ کپ شروع ہونے سے قبل ہی اس کو متنازع بنا دیا ہے۔
ہندو انتہا پسند جماعت کے احتجاج اور دباؤ پر معروف فاسٹ بولر مستفیض الرحمان کو صرف بنگلہ دیشی ہونے کی بنیاد پر آئی پی ایل سے بیک جنبش قلم باہر کیا گیا اور اس کیلیے بھارت بھر میں ہندو انتہا پسندوں نے احتجاج بھی کیا تو بنگلہ دیش کے پاس اس کے علاوہ کیا چارہ تھا کہ وہ ورلڈ کپ کے لیے بھارت جانے سے انکار کر دے، کیونکہ سب کو نظر آ رہا تھا کہ جس ملک میں ایک بنگلہ دیشی کھلاڑی ہندو انتہا پسندوں کو برداشت نہیں ہو رہا، تو وہاں پوری بنگلہ دیشی ٹیم کیسے برداشت اور محفوظ ہوگی۔ اسی سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر بنگلہ دیشی کرکٹ بورڈ نے حکومت سے مشاورت کے بعد اپنی ٹیم کو ورلڈ کپ کے لیے بھارت بھیجنے سے انکار کر دیا اور آئی سی سی کو اپنے میچز سری لنکا منتقل کرنے کی درخواست کی۔
ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ آئی سی سی بنگلہ دیش کے خدشات کا جائزہ لیتا اور اس کو دور کر کے مطمئن کرنے کی کوشش کرتا، کیونکہ بنگلہ دیش کا مطالبہ کوئی انوکھا نہیں۔ ماضی میں انگلینڈ، آسٹریلیا، ویسٹ انڈیز دیگر میزبان ممالک میں آئی سی سی ایونٹ میں جانے سے انکار بلکہ خود بھارت کئی مرتبہ کھیل کو سیاسی اکھاڑا بناتے ہوئے اپنی ٹیم آئی سی سی اور اے سی سی ایونٹ میں بھیجنے سے انکار کر چکا اور ان سب ٹیموں کے خلاف آئی سی سی نے کبھی کوئی کارروائی نہیں کی۔ آئی سی سی نے ماضی کی روایت کے برعکس بنگلہ دیش کو ٹورنامنٹ سے باہر کر کے اسکاٹ لینڈ کو شامل کر لیا اور صرف اتنا ہی نہیں بلکہ انتقامی کارروائی کی حد کراس کرتے ہوئے بنگلہ دیشی صحافیوں کو ورلڈ کپ کی کوریج سے روکتے ہوئے ان کے ایکریڈیشن منسوخ کر دیے۔
آئی سی سی کا بنگلہ دیش کے خدشات دور کیے بغیر صرف ایک دن کی وارننگ دے کر یوں ورلڈ کپ جیسے ٹورنامنٹ سے باہر کر دینے کا فیصلہ ایک فل ممبر ملک کی یقینی توہین کے مترادف اور آئی سی سی کے تکبر کی عکاسی کرتا ہے۔ کرکٹ کی عالمی باڈی کا یہ فیصلہ نہ صرف بنگلہ دیش بلکہ دنیائے کرکٹ نے جانبدارانہ اور متعصبانہ قرار دیتے ہوئے اس فیصلے کو مبینہ طور پر بھارتی حکومت، بی سی سی آئی اور پیسے کے بل بوتے پر سنایا جانے والا ایک سیاسی فیصلہ قرار دیا ہے۔
پاکستان نے بھی اس فیصلے پر اپنے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ چیئرمین پی سی بی محسن نقوی جو کرکٹ کے معاملے پر بھارت اور آئی سی سی کو آنکھیں دکھانے کے لیے مشہور ہو چکے ہیں، وہ ایک بار پھر آئی سی سی کے اس جانبدارانہ رویے پر دبنگ موقف اختیار کرتے ہوئے ورلڈ کپ کے بائیکاٹ کا اشارہ دے چکے ہیں۔ اس سلسلے میں دو روز قبل انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کر کے مذکورہ صورتحال سامنے رکھتے ہوئے کئی بائیکاٹ سمیت کئی دیگر آپشن بھی سامنے رکھے ہیں اور محسن نقوی کے مطابق اس معاملے پر کوئی بھی حتمی فیصلہ جمعہ یا پیر کو متوقع ہے۔
بنگلہ دیشی عوام اس فیصلے کا شدت سے انتظار کر رہے ہیں اور وہاں کے ایک سینئر صحافی کے مطابق بنگلہ دیشی عوام میں دو رائے پائی جاتی ہیں۔ عوام کا ایک حلقہ چاہتا ہے کہ پاکستان بنگلہ دیش کے ساتھ کھڑا ہو اور ورلڈ کپ کا بائیکاٹ کرے، مگر اس کے ساتھ دوسری سوچ والا عوامی طبقہ بھی ہے جو چاہتا ہے کہ پاکستان جیت کے عزم کے ساتھ میگا ایونٹ میں جائے اور ورلڈ کپ جیت کر آئی سی سی اور بھارت کا غرور خاک میں ملائے۔
تاہم پاکستان میں اس حوالے سے تین متضاد آرا پائی جاتی ہیں۔ پی سی بی کے کچھ سابق چیئرمینز اور کرکٹرز چاہتے ہیں کہ پاکستان ورلڈ کپ کا بائیکاٹ کر کے دنیا کو بتائے کہ بھارت نے آئی سی سی کو اپنے مفادات اور سیاسی کھیل کا اکھاڑا بنا لیا ہے۔ کچھ کا خیال ہے کہ پاکستان ٹورنامنٹ میں حصہ لے، مگر بھارت کے خلاف میچ کا بائیکاٹ کرے۔ جب کہ ایک طبقہ یہ کہتا ہے کہ پاکستان نیوٹرل وینیو پر کھیلنے کی اپنی بات منوا چکا ہے، اس لیے وہ ورلڈ کپ کھیلنے سری لنکا جائے اور جیت کر اس فتح کو بنگلہ دیش کے نام کرے اور یہی آئی سی سی کے متعصبانہ رویے کا کرارا جواب ہوگا۔
دوسری جانب کرکٹ لورز کی کمی بھارت میں بھی نہیں جو آئی سی سی اور بی سی سی آئی کے سیاسی فیصلوں پر ببانگ دہل تنقید کرتے ہیں۔ موجودہ صورتحال پر ایوارڈ یافتہ بھارتی صحافی شردا اُگرا نے آئی سی سی ٹی 20 ورلڈ کپ سے بنگلہ دیش کے اس طرح اخراج پر بی سی سی آئی اور آئی سی سی کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے لکھا کہ اس فیصلے پر انہیں حیرت نہیں ہوئی، جانتی تھی ایسا ہی فیصلہ آئے گا۔ کیونکہ آئی سی سی ہیڈ کوارٹرز بی سی سی آئی کا دبئی آفس بنا ہوا ہے۔ ایگزیکٹو بورڈ بھی وہی کرتا ہے، جو بھارت کہتا ہے۔ انگلینڈ اور آسٹریلیا کے بورڈز بھی بی سی سی آئی کے سہولت کار بنے ہوئے ہیں۔
یہ حقیقت ہے کہ پاکستان اگر ورلڈ کپ کا بائیکاٹ کرتا ہے یا صرف انڈیا سے میچ کھیلنے سے انکار کرتا ہے تو اس کو بڑا مالی نقصان برداشت کرنا پڑے گا۔ تاہم یہ بھی سچ ہے کہ یہ فیصلہ پاکستان سے زیادہ آئی سی سی اور بھارت کے لیے مالی طور پر تباہ کن ہو سکتا ہے، کیونکہ صرف پاک بھارت میچ ہی پورے ٹورنامنٹ کا لگ بھگ 60 فیصد ریونیو حاصل کرتا اور آئی سی سی کے ساتھ بی سی سی آئی کے خزانے بھرتا ہے۔
شاید پاکستان کے ورلڈ کپ کے بائیکاٹ کا خوف ہے کہ گودی میڈیا اپنی روایت کے مطابق ایک بار پھر سرگرم ہو چکا اور منفی پروپیگنڈے پر اتر آیا ہے۔ پہلے تو وہ صرف بائیکاٹ کی صورت میں بھاری مالی نقصان، آئی سی سی کی جانب سے پابندی عائد سے ڈرا رہا تھا اور اب یوٹرن لیتے ہوئے نئی بے پر کی اڑائی ہے کہ آئی سی سی نے ورلڈ کپ کے لیے بنگلہ دیش کو تیار رہنے کا حکم دے دیا ہے اور پاکستان کی جانب سے ممکنہ بائیکاٹ کا اعلان ہوتے ہی آئی سی سی اس کی جگہ بنگلہ دیش کو شمولیت کی دعوت دے گی، اور اس طرح اس کی اپنے میچز بنگلہ دیش میں کھیلنے کی درخواست بھی پوری ہو جائے گی۔
یہ معاملہ اتنا سنگین نہ ہوتا اور ورلڈ کپ پوری شان وشوکت سے ہوتا، اگر مودی سرکار اور بھارتی کرکٹ بورڈ شیوسینا کے غنڈوں کے سامنے گھٹنے ٹیک کر آئی پی ایل انتظامیہ کو کولکتہ نائٹ رائیڈر سے بنگلہ دیشی پیسر مستفیض الرحمان کو نکالنے کا حکم صادر نہ کرتے۔ بھارت کی اصل آزمائش اب باقی ہے، کیونکہ بنگلہ دیش کی جگہ شامل کی جانے والی اسکاٹ لینڈ کی ٹیم میں پاکستانی نژاد کرکٹرز بھی شامل ہیں اور امکان ہے کہ امریکا اور دیگر پاکستانی نژاد کرکٹرز والی ٹیموں کی طرح اسکاٹ لینڈ کو بھی ویزوں میں پریشانی ہو سکتی ہے۔ اگر بھارت اپنا بھرم رکھنے کے لیے اسکاٹش ٹیم کو ویزے دیتا ہے تو پھر دیگر ٹیموں کے پاکستانی نژاد کرکٹرز کو ویزے نہ دینے پر ایک اور تنازع کھڑا ہونے کا قومی امکان ہے ۔
بگ تھری منصوبہ ہو یا پھر پاکستان اور بھارت کے خلاف سیاسی بنیاد پر مخاصمانہ فیصلے۔ اس سے صرف اس تاثر کو ہی تقویت ملی ہے کہ آئی سی سی انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نہیں بلکہ انڈین کرکٹ کونسل بن گئی ہے اور عملاً بھارتی کرکٹ بورڈ کی بی ٹیم کا کردار ادا کر رہی ہے۔ بالخصوص جب سے بھارتی سیاستدان امیت شاہ کے صاحبزادے جے شاہ آئی سی سی کے چیئرمین بنے ہیں، تب سے ایسا لگ رہا ہے کہ آئی سی سی مودی سرکار کی گود میں جا بیٹھی ہے۔ حقیقت کی عکاسی کرتا یہ منظر نامہ اور تاثر کوئی تبدیل کر سکتا ہے تو وہ خود آئی سی سی ہے، جو مودی سرکار اور بی سی سی آئی کے اشاروں پر چلنے کے بجائے کھیلوں میں سیاست لانے کے بجائے وہ غیر جانبدارانہ فیصلے کرے جو کھیلوں کی کسی عالمی تنظیم کے وقار کا اظہار ہوں۔
یہ سب تبصرے باتیں اپنی جگہ، لیکن قارئین آپ کیا کہتے ہیں؟
پاکستان ورلڈ کپ کا بائیکاٹ کرے۔
بھارت کے خلاف میچ نہ کھیلے۔
یا پھر فتح کے عزم کے ساتھ ورلڈ کپ کھیلنے جائے اور جیت کر اس فتح کو بنگلہ دیش کے نام کر کے دوستانہ اور برادرانہ تعلقات کی نئی بنیاد رکھے۔ کمنٹس سیکشن میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔
ریحان خان کو کوچہٌ صحافت میں 25 سال ہوچکے ہیں اور ا ن دنوں اے آر وائی نیوز سے وابستہ ہیں۔ملکی سیاست، معاشرتی مسائل اور اسپورٹس پر اظہار خیال کرتے ہیں۔ قارئین اپنی رائے اور تجاویز کے لیے ای میل [email protected] پر بھی رابطہ کر سکتے ہیں۔


