پاکستان کے سابق ٹیسٹ کرکٹر باسط علی نے مطالبہ کیا ہے کہ موجودہ کشیدہ حالات میں بھارت سے ورلڈکپ چھین لینا چاہیے۔
بنگلادیشی کرکٹ بورڈ بھارتی رویے کے سامنے ڈٹ گیا ہے، بی سی بی نے موجودہ کشیدگی کے بعد واضح کردیا ہے کہ بنگلہ دیشی ٹیم ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کھیلنے بھارت نہیں جائے گی، بورڈ کا مطالبہ ہے کہ سیکیورٹی مسائل کی وجہ سے میچز نیوٹرل وینیو پر منتقل کیے جائیں۔
اے آر وائی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے سابق بیٹر باسط علی نے کہا کہ بھارت میں نہ کوئی سکھ، نہ مسلمان اور نہ ہی کوئی عیسائی محفوظ ہے اور اس ملک میں ورلڈکپ کا انعقاد ہورہا ہے، میرا خیال ہے اس ملک سے ورلڈکپ چھین لینا چاہیے۔
باسط علی نے کہا کہ 25 دسمبر کو کرسمس والے دن جو کچھ بھارت میں ہوا ہے، جتنے بھی عیسائی ممالک ہیں وہ اس بات پر احتجاج کریں یہ چیزیں منظر عام پر آچکی ہیں۔
مستفیض الرحمان کے ساتھ ہونے والے سلوک پر انھوں نے کہا کہ اسپورٹس میں یہ چیز نہیں ہونی چاہیے تھی، آر ایس ایس کا بیانیہ بی سی سی آئی کہہ رہا ہے، بھارت کی کرکٹ بہت اورپر جارہی ہے۔
سابق ٹیسٹ کرکٹر نے کہا کہ لگتا ہے بھارتی حکومت چاہتی ہے کہ جس طرح دنیا میں ہم اکیلے ہوگئے ہیں اس طرح کرکٹ میں بھی ہم اکیلے ہوجائیں۔
انھوں نے کہا کہ مستفیض الرحما اگر اکیلا بنگلہ دیش میں محفوظ نہیں ہے تو پوری ٹیم کیسے ہوگی، شاہ رخ کان جیسے اداکار کو بھارت میں غدار بولا جارہا ہے۔


