جمعہ, مئی 8, 2026
اشتہار

پتّھروں اور سکّوں سے کاغذی نوٹوں تک لین دین کا سفر

اشتہار

حیرت انگیز

دنیا کی تیز رفتار ترقی میں معیشت وہ شعبہ ہے جس کی بنیاد پر زر کی مختلف شکلیں، ملکی اور علاقائی کاروبار اور عالمی تجارت کا نظام ایک اصول اور قاعدے کے تحت کام کررہا ہے، لیکن قدیم زمانے میں‌ لین دین اور خرید و فروخت کے لیے آج کی طرح کرنسی نوٹ نہیں ہوا کرتے تھے بلکہ عام آدمی کے پاس زر و جواہر، سونے اور چاندی جیسی دھاتیں بھی اس مقدار میں نہیں ہوتی تھیں کہ وہ ان سے لین دین کرتا رہتا۔ جنس کے بدلے اپنے کام کی کوئی چیز حاصل کرنا قدیم دور میں رائج رہا ہے۔ اس کے بعد ہندوستان کی بات کی جائے تو چمڑے یا پتھر کی کوڑیاں، اور پھر دھاتی سکّے متعارف کروائے گئے اور پھر جدید دنیا نے کرنسی نوٹوں کے ذریعے لین دین شروع کیا۔

پیشِ نظر تحریر زر اور لین دین سے متعلق معلومات افزا بھی ہے اور دل چسپ بھی۔ ملاحظہ کیجیے:

انسانی تاریخ کے مطالعہ سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ ایک زمانے میں زر، سونے چاندی کے سکوں کی شکل میں ہونے کے بجائے دوسری اشیاء کی شکل میں ہوتے تھے۔ چنانچہ پتھر اور ٹھیکروں کے سکے بھی پائے گئے ہیں اور بعض ایسے ابتدائی افریقی قبیلوں کا بھی پتہ چلا ہے جن کے یہاں گائے زر کے طور پر استعمال ہوتی تھی اور ہم موجودہ زمانے میں کاغذ پر لکھی گئی تحریروں کو بطور زر استعمال کرتے ہیں۔ چنانچہ موجودہ زمانے میں چیک کا استعمال عام ہے جس کے ذریعہ ہم ضرورت کی اشیاء کا لین دین کرتے ہیں۔

یہ کاغذی زر دو اسباب کی بناء پر مبادلے کی مخصوص قدر و قیمت کے حامل ہوتے ہیں۔ پہلی چیز تو یہ کہ لوگوں کے درمیان آپسی لین دین میں ایک وسیلے کی ضرورت نے ان کو اس پر مجبور کیا کہ اس کو زر کے طور پر اپنا لیں۔ دوسری حکومت عوام کو اس کے قبول کرنے پر مجبور کرتی ہے اور حکومت کا جبر بھی دراصل عوام کے رحجان ہی کی بنا پر ہوتا ہے۔ گویا سب پہلے عوام نے اس پر اتفاق کیا پھر حکومت نے اس پر مہر ثبت کر دی۔

تقریباً آخری پچاس سالوں میں کاغذی نوٹوں کا رواج شروع ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے تمام ممالک میں اس کا استعمال عام ہوگیا۔ آبادی میں اضافے، تجارت و صنعت میں ترقی نیز سونے کی قلت اور چیک اور کاغذی نوٹوں کے استعمال میں سہولت وغیرہ وہ اسباب تھے جن کی بنا پر ایسا ہونا ناگزیر تھا۔ واقعہ یہ ہے کہ کاغذی نوٹ موجودہ زمانے میں ایک عام ضرورت کی شکل اختیار کر گئے ہیں۔ انہیں بطور زر قبول کرنے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں۔ یہ نوٹ دراصل اشیاء کے لین دین کے لئے استعمال ہوتے ہیں اور ان کے استعمال میں دین کے احکام سے کسی ٹکراؤ کا کوئی شبہ نہیں۔ اگر ایک زمانے میں سونے اور چاندی کے سکوں کا رواج تھا تو بھی اس بنا پر کہ وہ لین دین کا ذریعہ تھے۔ بذاتِ خود ان میں کوئی افادیت نہیں تھی کیونکہ وہ کسی کی بھوک اور پیاس نہیں مٹا سکتے بلکہ مادّی ضروریات کی تحلیل کے ذریعہ کے طور پر استعمال ہوتے تھے۔ اب اگر اس کے بدلے ہم نے کاغذی روپیوں کا استعمال شروع کیا جو بعینہ وہی مقاصد پورے کرتے ہیں تو اس میں کوئی حرج نہیں اور اس کے استعمال میں کسی شک شبہ کی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔

(محمود ابوالسعود کی کتاب اسلامی معیشت کے بنیادی اصول سے اقتباس جس کے مترجم مزمل حسین فلاحی ہیں)

+ posts

اہم ترین

مزید خبریں