The news is by your side.

Advertisement

دنیا کا خطرناک ترین لیپ ٹاپ سامنے آگیا، قیمت 15 کروڑ روپے سے زائد

نیویارک: دنیا کا خطرناک ترین لیپ ٹاپ سامنے آگیا جس کی قیمت 15 کروڑ روپے سے زائد ہے، بنانے والے نے لیپ ٹاپ کو آرٹ آف پیس قرار دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق دنیا کا خطرناک ترین لیپ ٹاپ فروخت کے لیے مارکیٹ میں آگیا جبکہ تعارفی قیمت 10 لاکھ ڈالرز (15 کروڑ پاکستانی روپے سے زائد) مقرر کی گئی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق لیپ ٹاپ کو بنانے والے گیو او ڈونگ نے اسے آرٹ آف پیس قرار دیا ہے کیونکہ اس میں دنیا کے 6 خطرناک ترین وائرسز لوڈ کیے گئے ہیں۔

انٹرنیٹ آرٹسٹ گیو او ڈونگ کا یہ تیار کردہ لیپ ٹاپ اس وقت تک محفوظ ہے جب تک اسے وائی فائی سے کنکٹ یا اس میں یو ایس بی نہیں لگائی جاتی۔ گیو او ڈونگ کے مطابق اس لیپ ٹاپ کی تیاری کا مقصد دنیا کو دکھانا ہے کہ ڈیجیٹل ورلڈ میں کیسے کیسے خطرات موجود ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارا خیال ہوتا ہے کہ کمپیوٹرز میں موجود چیزیں ہمیں متاثر نہیں کرسکتیں مگر یہ درست نہیں، درحقیقت وائرسز کو ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے جس سے پاور گرڈ یا پبلک انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچایا جاسکتا ہے۔ یہ لیپ ٹاپ سام سنگ کا این سی 10-14 جی بی ہے جس میں 6 وائرسز موجود ہیں جن کا انتخاب ان کی جانب سے پھیلائی گئی تباہی کو دیکھ کر کیا گیا۔

اس میں ایک تو 2000 کا آئی لو یو وائرس نامی کمپیوٹر بگ ہے جو اس زمانے میں ای میلز کے ساتھ بھیجا جاتا تھا۔ اسی طرح وانا کرائی رینسم وئیر بھی اس لیپ ٹاپ میں موجود ہے جس نے 2017 میں دنیا بھر میں اسپتالوں اور فیکٹریوں کے کمپیوٹرز کو بند کردیا تھا اور اس کا ذمہ دار شمالی کوریا کو قرار دیا گیا۔

گیو او ڈونگ کے مطابق وانا کرائی ایسی مثال ہے جس سے پتا چلتا ہے کہ ڈیجیٹل حملے کس طرح نقصان پہنچا سکتے ہیں کیونکہ اس وائرس سے 10 کروڑ ڈالرز کا نقصان ہوا جبکہ ڈاکٹرز کی لاکھوں اپائنمنٹس منسوخ ہوئیں۔ مجموعی طور پر سام سنگ کے اس لیپ ٹاپ میں جو وائرسز موجود ہیں انہوں نے دنیا بھر میں 95 ارب ڈالرز مالیت کی تباہی مچائی۔

اس لیپ ٹاپ کا تجزیہ سائبر سیکیورٹی کمپنی ڈیپ انسٹینکٹ نے کیا اور یہ اس وقت آن لائن نیلامی کےلئے دستیاب ہے۔اس وقت لیپ ٹاپ کےلئے 12 لاکھ ڈالرز کی قیمت لگ چکی ہے جو کہ میل وئیر سے بھرے کسی پرانے لیپ ٹاپ کے لیے بہت زیادہ محسوس ہوتی ہے مگر اسے ڈیزائنر کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں یہ آرٹ ورک ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں