site
stats
اے آر وائی خصوصی

عالمی اقتصادی فورم کے وہ لمحات جب قوم کا سر فخر سے بلند ہوا

ڈیووس: سوئٹزر لینڈ میں منعقد ہونے والے عالمی اقتصادی فورم کے اجلاس میں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور ملالہ یوسف زئی نے شرکت کر کے قوم کا سر فخر سے بلند کردیا۔

تفصیلات کے مطابق سوئٹزر لینڈ کے شہر ڈیووس میں عالمی اقتصادی فورم (ورلڈ اکنامک فورم) منعقد کیا گیا جس میں دنیا بھر سے مختلف نامور شخصیات اور ملکی سربراہان نے شرکت کی۔

کانفرنس کے دوران ایسے مناظر دیکھنے میں آئے جنہیں دیکھ کر قوم کا سر فخر سے بلند ہوگیا اور لوگوں نے انہیں دیکھ کر مسرت کا اظہار بھی کیا۔

عالمی اقتصادی فورم کے اجلاس میں وزیراعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی انتہائی سادگی کے ساتھ قومی لباس (قمیص شلوار) پہن کر شریک ہوئے جبکہ مختلف ممالک کے وزرائے اعظم نے مہنگے لباس زیب تن کیے ہوئے تھے۔

وزیر اعظم پاکستان نے مباحثے کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ہم قوم کےاچھے مستقبل اور دنیا کے تمام ممالک سے بہترین تعلقات کے لیے کوشاں ہیں‘۔

پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھی اجلاس میں شرکت کی اور جعلی خبروں کے حوالے سے ہونے والے سیشن میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

انہوں نے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا تھا کہ’جعلی خبریں کسی بھی جمہوری معاشرے کے لیے اچھی نہیں کیونکہ اس سے افواہیں جنم لیتی ہیں اور پھر لوگ انتشار کا شکار ہوجاتے ہیں‘۔

مزید پڑھیں: شادی ایک دفعہ سوچ سمجھ کر کروں گا، سیاستدانوں کی طرح بار بار نہیں ، بلاول بھٹو

علاوہ ازیں بلاول بھٹو نے اپنی شادی پر بھی مزاحیہ تبصرہ کیا تھا۔ پی پی سینیٹر شیریٰ رحمان کے مطابق پاکستان کے لیے یہ پہلا موقع ہے کہ کسی بھی سیاسی جماعت کے نوجوان سربراہ نے فورم میں اظہار خیال کیا۔

پاکستان کی بیٹی ملالہ یوسف زئی نے بھی اجلاس میں شرکت کی اور خواتین کے حقوق اور تعلیم پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔

ملالہ کا کہنا تھا کہ جب ہم صنفی مساوات کی بات کرتے ہیں تو ہم مردوں سے ہی مخاطب ہوتے ہیں، ’نوعمر لڑکوں کو یہ چیز بتانے کی ضرورت ہے کہ اصل مرد وہ ہے جو اپنے آس پاس موجود افراد بشمول خواتین کو مساوی حقوق دے‘۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

loading...

Most Popular

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top