The news is by your side.

Advertisement

آزادی کپ، پاکستان نے ورلڈ الیون کو شکست دے دی

لاہور: آزادی کپ کے پہلے ٹی ٹوئنٹی میچ میں پاکستان نے ورلڈ الیون کو 20 رنز سے شکست دے کر فتح اپنے نام کرلی، بابر اعظم کو میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق لاہور میں ہونے والے تین ٹی ٹوئنٹی میچز کی سیریز کے پہلے میچ میں ورلڈ الیون کے کپتان ڈوپلیسی نے ٹاس جیت کر پاکستان کو بیٹنگ کی دعوت دی، سرفراز الیون نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مخالف ٹیم کو جیت کے لیے 198 رنز کا ہدف دیا جس کے جواب میں ورلڈ الیون مقررہ 20 اوورز میں صرف 177 رنز ہی بنا سکی۔

پڑھیں: پاکستان بمقابلہ ورلڈ الیون، کھلاڑیوں کا خوبصورت رکشوں پر گراؤنڈ کا چکر

پاکستان نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ 20 اوورز میں 197 رنز بنائے اور ورلڈ الیون کو جیت کے لیے 198 رنز کا ٹارگٹ دیا، پاکستان کی جانب سے بابر اعظم 86 رنز بنا کر نمایاں بلے باز رہے جبکہ احمد شہزاد 39 اور شعیب ملک 38 رنز بنا کر بالترتیب دوسرے اور تیسرے نمبرز پر رہے۔

Image may contain: text

ورلڈ الیون کے تسارا پریرا 2 کھلاڑیوں کو آؤٹ کر کے نمایاں باؤلر رہے جبکہ مورنی مورکل، عمران طاہر اور بین کٹنگ نے1،1 وکٹ حاصل کی۔

ورلڈ الیون کی جانب سے سیمی 16 گیندوں پر 29 رنز بنا کر نمایاں بلے باز رہے جبکہ پاکستان کی جانب سے رومان رئیس، سہیل خان اور شاداب خان نے 2 ، 2 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔

ورلڈ الیون اننگز

بیسویں اوور میں سیمی نے ٹیم کو فتح دلوانے کی بھرپور کوشش کی مگر اُن کی قسمت نے ساتھ نہ دیا اور پاکستان نے مخالف ٹیم کو 20 رنز سے شکست دی۔

دوسری اننگز جھلکیاں

انیسویں اوور میں سیمی نے دو بار گیند کو باؤنڈری کے باہر پھینکا جس کے بعد ٹیم کا مجموعی اسکور 163 تک پہنچا۔

اننگز کا اٹھارواں اوور حسن علی نے کیا جس میں صرف تین رنز کا اضافہ ہوا اور مجموعی اسکور 151 تک پہنچا۔

سترہویں اوور میں بھی سہیل خان نے گرانٹ ایلیٹ کو پویلین کی راہ دکھائی انہوں نے 14 رنز اسکور کیے، اوور اختتام پر ورلڈ الیون نے 6 وکٹوں کے نقصان پر 148 رنز اسکور کیے۔

سولہویں اوور میں ورلڈ الیون کے کھلاڑی نے مسلسل تین چوکے لگائے جس کے بعد ٹیم کا مجموعی اسکور 5 وکٹ کے نقصان پر 139 رنز تک پہنچا۔

پندرہواں اوور شاداب خان نے کیا اور اس میں بھی ورلڈ الیون کے ایک اور کھلاڑی ملر آؤٹ ہوئے، اوور اختتام پر مجموعی اسکور پانچ وکٹوں کے نقصان پر 123 تک پہنچا۔

چودہویں اوور کی دوسری بال پر پین نے باؤنڈری لگانے کی کوشش کی مگر وہ ناکام رہے اور کیچ آؤٹ ہوگئے، سہیل خان کے اوور میں ورلڈ الیون صرف تین رنز بنانے میں کامیاب ہوئی جس کے بعد مجموعی اسکور 4 وکٹوں کے نقصان پر 110 تک پہنچا۔

تیرہویں اوور کی دوسری گیند پر شاداب خان نے ڈپلیسی کو پویلین کی راہ دکھائی، انہوں نے 18 گیندوں کا سامنا کرتے ہوئے 29 رنز اسکور کیے،اوور اختتام پر ورلڈ الیون نے تین وکٹوں‌ کے نقصان پر 107 رنز اسکور کیے۔

بارواں اوور ورلڈ الیون کے لیے اچھا ثابت ہوا اور ڈوپلسی نے عمدہ بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک چھکا اور تین چوکے لگائے، اوور میں مجموعی طور پر 22 رنز کا اضافہ ہوا۔

گیارہویں اوور میں مجموعی اسکور 78 تک پہنچا۔

دسویں اوور کے اختتام پر ورلڈ الیون کا مجموعی اسکور 68 تک پہنچا۔

شاداب خان نے اپنا پہلا اور اننگز کا 9 واں اوور کروایا جس میں ورلڈ الیون صرف 2 رنز بنا سکی، اوور اختتام پر ٹیم کا مجموعی اسکور دو کھلاڑیوں کے نقصان پر 60 تک پہنچا۔

آٹھویں اوور میں عماد وسیم نے صرف 3 رنز دیے جس کے بعد ورلڈ الیون کا مجموعی اسکور 2 وکٹوں کے نقصان پر 58 تک پہنچا۔

ساتویں اوور میں 7 رنز کا اضافہ ہوا اور ورلڈ الیون کا مجموعی اسکور 55 تک پہنچا۔

چھٹا اوور رومان رئیس نے کیا اور دوسری ہی بال پر تمیم اقبال کو کلین بولڈ کر کے پویلین کی راہ دکھائی، اوور کی آخری بال پر رومان نے ہاشم آملہ کو بھی پویلین بھیجا اس طرح یہ اوور ورلڈ الیون پر بھاری پڑا کیونکہ دونوں اوپنرز پویلین لوٹے، کامیاب اوور کے اختتام پر ورلڈ الیون کا اسکور دو وکٹوں کے نقصان پر 48 تک پہنچا۔

پانچویں اوور کے اختتام پر ورلڈ الیون نے 39 رنز اسکور کیے۔

چوتھا اوور سہیل خان نے کیا جس میں 11 رنز کا اضافہ ہوا جس کے بعد مجموعی اسکور بغیر کسی نقصان کے 29 رنز تک پہنچا۔

تیسرے اوور عماد سوسیم نے کیا جس میں ہاشم آملہ نے ایک چھکا مارا اور مجموعی اسکور 18 رنز تک پہنچایا۔

سہیل خان نے اننگز کا دوسرا اور اپنا پہلا اوور شروع کیا، اختتام پر ورلڈ الیون نے 11 رنز اسکور کیے،

ورلڈ الیون کی جانب سے اننگز کا آغاز تمیم اقبال اور ہاشم آملہ نے کیا جبکہ اٹیکنگ اوور کے لیے سرفراز احمد نے عماد وسیم کو منتخب کیا، اوور کے اختتام پر مجموعی اسکور بغیر کسی نقصان کے چار رنز تک پہنچا۔

پاکستان اننگز

بیسویں اوور کی پہلی گیند پر شعیب ملک نے چھکا مارا تاہم اگلی ہی بال پر پھریرا نے انہیں کلین بولڈ کیا، عماد وسیم کا ساتھ دینے کے لیے فہیم اشرف کریز پر آئے، عماد وسیم نے آخری اوور میں 2 چھکے مار کر مجموعی اسکور 197 تک پہنچایا۔

اننگز کی ویڈیو جھلکیاں

سرفراز کے آوٹ ہونے کے بعد عماد وسیم شعیب ملک کا ساتھ دینے کے لیے کریز پر آئے، انیسویں اوور کی ابتدائی 3 گیندوں پر شعیب ملک نے لگاتار 3 چوکے لگائے، اوور اختتام پر مجموعی اسکور 4 وکٹ کے نقصان پر 166 تک پہنچا۔

اٹھارہویں اوور میں شعیب ملک نے ایک چھکے اور ایک چوکے کی مدد سے اسکور کو 166 رنز تک پہنچایا تاہم آخری گیند پر سرفراز احمد وکٹ گنوا بیٹھے، اوور اختتام پر پاکستان نے چار وکٹ کے نقصان پر 166 رنز اسکور کیے۔

سترہویں اوور میں142 رنزپر پاکستان کی تیسری وکٹ گری، بابراعظم 86 رنز بنا کرعمران طاہر کی گیند پرآؤٹ ہوئے، شعیب ملک کا ساتھ دینے کے لیے کپتان نے بلا سنبھالا اور کریز پر آئے، اوور اختتام پر قومی کرکٹ ٹیم نے 3 وکٹوں کے نقصان پر 149 رنز اسکور کیے۔

سولہویں اوور میں احمد شہزاد کیچ آؤٹ ہونے کے بعد پویلین لوٹے، انہوں نے 34 گیندوں کا سامنا کرتے ہوئے 39 رنز بنائے، بابر اعظم کا ساتھ دینے کے لیے شعیب ملک بلا سنبھال کر کھیلنے کے لیے آئے، اوور اختتام پر قومی کرکٹ ٹیم نے دو کھلاڑیوں کے نقصان پر 133 رنز اسکور کیے۔

چودہویں اوور میں ایک چھکے کی مدد سے اسکور 130 تک پہنچا۔

تیرہویں اوور میں بلے بازوں نے ذمہ دارانہ کھیل کا مظاہرہ پیش کیا جس کی وجہ سے مجموعی اسکور 117 تک پہنچا۔

پہلی وکٹ جلدی گرنے کے باوجود بلے بازوں نے ذمہ دارانہ بیٹنگ کا مظاہرہ کیا اور ہر اوور میں اسکور حاصل کرتے رہے، گیارہویں اوور کی دوسری بال پر 100 رنز مکمل ہوئے اوور اختتام پر مجموعی اسکور ایک وکٹ کے نقصان پر 106 تک پہنچا۔

دسویں اوور کی چوتھی بال پر بابر اعظم نے 33 گیندوں پر نصف سنچری مکمل کی، اوور اختتام پر مجموعی اسکور 85 تک پہنچا۔

نویں اوور میں 6 رنز بنے جس کے بعد قومی کرکٹ ٹیم کا مجموعی اسکور ایک وکٹ کے نقصان پر 76 تک پہنچا۔

آٹھ اوورز کا کھیل مکمل ہونے پر قومی ٹیم نے ایک وکٹ کے نقصان پر 70 رنز اسکور کیے، بابر اعظم نے ستائیس گیندوں کا سامنا کر کے 42 جبکہ احمد شہزاد نے 18 گیندوں کا سامنا کر کے 20 رنز اسکور کیے۔

ساتویں اوور میں بابر اعظم کے شاندار چوکوں کے باعث ٹیم کا مجموعی اسکور 62 تک پہنچا، اوور اختتام پر بابر اعظم 40 اور احمد شہزاد 14 رنز بنا کر کریز پر موجود ہیں۔

چھٹے اوور میں 9 رنز کا اضافہ ہوا جس کے بعد مجموعی اسکور 49 تک پہنچا، اوور اختتام کے ساتھ پہلا پاؤر پلے بھی اختتام کو پہنچا۔

پانچویں اوور میں مزید رنز بنے تو اسکور41 ہوگیا،اس اوور کے اختتام تک بابر اعظم کے 21 رنز اور احمد شہزاد کے 11 رنز تھے۔

چوتھے اوور میں بابر اعظم اور احمد شہزاد نے ایک ایک چوکا مارا، اوور کے اختتام تک پاکستان کا اسکور 34 ہوگیا۔

تیسرے اوور کے اختتام تک ایک وکٹ کے نقصان پر پاکستان نے 24 رنز اسکور کیے، کریز پر بابر اعظم اور احمد شہزاد موجود رہے۔

دوسرے اوور میں بابر اعظم نے شاندار بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے مسلسل دو چوکے مارے، اوور اختتام پر پاکستان نے ایک وکٹ کے نقصان پر 21 رنز اسکور کیے۔

پاکستان کی جانب سے بیٹنگ کا آغاز فخر زمان اور احمد شہزاد نے کیا جبکہ ورلڈ الیون کی جانب سے پہلا اوور مورکل نے کیا، یکے بعد دیگرے دو چوکے مارنے کے بعد فخر زمان سلپ پر کیچ آؤٹ ہوکر پویلین لوٹے، انہوں نے چار گیندوں کا سامنا کرتے ہوئے 8 رنز اسکور کیے۔ اوور اختتام پر ٹیم کا اسکور ایک وکٹ کے نقصان پر 12 تک پہنچا۔

مزید پڑھیں: ورلڈ الیون کی آمد پاکستان میں عالمی کرکٹ لانےمیں پہلا قدم ہے‘ اینڈی فلاور

ٹاس کے بعد گفتگو

اس موقع پر ورلڈ الیون کے کپتان کا کہنا تھا کہ پاکستان آکر بے حد خوشی ہوئی اور امید ہے کہ ایک اچھی سیریز کھیلنے کو ملے گی، مخالف ٹیم پراعتماد ہے کیونکہ اسے ہوم گراؤنڈ اور کراؤڈ کا ایڈوانٹیج بھی حاصل ہے۔

قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان سرفراز احمد نے کہا کہ اگر میں ٹاس جیتتا تو میری بھی پہلے ترجیح بیٹنگ کرنا ہوتی کیوں کہ یہ بیٹنگ پچ ہے اور مخالف ٹیم کو بڑا ٹارگٹ دے کر نفسیاتی برتری حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

اسکواڈ

پاکستانی بلے باز فہیم اشرف کے ڈیبیو پر تمام کھلاڑیوں نے مبارک باد پیش کی

کھلاڑیوں کو سخت سیکیورٹی میں ہوٹل سے اسٹیڈیم لایا گیا اور رکشے کے ذریعے پورے گراؤنڈ کا چکر لگوایا گیا، شائقین نے ورلڈ الیون اور قومی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں کا شاندار انداز میں استقبال کیا۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں