The news is by your side.

Advertisement

عالمی یوم ماحولیات: زمین کو پلاسٹک کی آلودگی سے بچانا ضروری

آج دنیا بھر میں ماحولیات کا عالمی دن منایا جارہا ہے۔ رواں برس اس دن کا مرکزی خیال پلاسٹک کی آلودگی کو شکست دینے کا عزم کرنا اور اس کے لیے فوری اقدامات کرنا ہے تاکہ زمین کو پلاسٹک کے کچرے میں دفن ہونے سے بچایا جائے۔

پلاسٹک ایک تباہ کن عنصر اس لیے ہے کیونکہ دیگر اشیا کے برعکس یہ زمین میں تلف نہیں ہوسکتا۔ ایسا کوئی خورد بینی جاندار نہیں جو اسے کھا کر اسے زمین کا حصہ بناسکے۔

ماہرین کے مطابق پلاسٹک کو زمین میں تلف ہونے کے لیے 1 سے 2 ہزار سال کا عرصہ درکار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارا پھینکا جانے والا پلاسٹک کا کچرا طویل عرصے تک جوں کا توں رہتا ہے اور ہمارے شہروں کی گندگی اور کچرے میں اضافہ کرتا ہے۔

یہ کچرا سمندروں میں جا کر انہیں آلودہ کرنے اور جنگلی حیات کو موت کا شکار کرنے کا سبب بھی بن رہا ہے۔

بھارت شہر پونا میں پلاسٹک کی تھیلیوں سے بنا ہوا کچھوا

اس وقت ہماری زمین کی یہ حالت ہوچکی ہے کہ ہمارے سمندروں، ہماری مٹی اور ہماری غذا تک میں پلاسٹک کے ذرات موجود ہیں۔

پلاسٹک کی آلودگی کا سب سے بڑا ذریعہ پلاسٹک کی تھیلیاں ہیں جو جا بجا استعمال ہوتی دکھائی دیتی ہیں۔ ایک محتاط اندازے کےمطابق پاکستان میں ہر سال 55 ارب پلاسٹک کی تھیلیاں استعمال ہوتی ہیں اور اس شرح میں ہر سال 15 فیصد اضافہ ہورہا ہے۔

دنیا بھر میں پلاسٹک کی آلودگی کے پیش نظر کئی ممالک نے اس پر پابندی بھی عائد کردی ہے۔


پلاسٹک سے کیسے بچا جائے؟

ہم اپنی زندگی میں پلاسٹک کے استعمال کو کم سے کم کرنے کی کوشش کرسکتے ہیں اور اگر ہر شخص یہ عزم کرے تو یقیناً ہزاروں افراد کے یہ اقدامات پلاسٹک کی آلودگی کو کسی حد تک کم کرسکیں گے۔

گھر میں استعمال ہونے والی پلاسٹک کی تھیلیاں عموماً باہر سے آتی ہیں جن میں سودا سلف یا مختلف اشیا لائی جاتی ہیں۔ ایسی اشیا خریدتے ہوئے ایک کپڑے سے بنا ہوا تھیلا ساتھ لے جائیں۔

اس تھیلے کو بار بار استعمال کیا جاسکتا ہے جبکہ اس کے استعمال کی عمر بھی پلاسٹک سے زیادہ ہے۔

کچن میں پلاسٹک کے کنٹینرز کی جگہ اسٹیل یا لکڑی سے بنے کنٹینرز استعمال کریں۔

پلاسٹک کے اسٹرا کم سے کم استعمال کریں اور روایتی طریقے سے مشروب پیئیں یعنی منہ سے۔

کوشش کریں کہ پلاسٹک کی اشیا کا کم سے کم استعمال کریں۔ آج کل پلاسٹک کے متبادل کے طور پر کپڑے، کاغذ یا لکڑی سے بنی اشیا کا رجحان فروغ پارہا ہے۔

اسی طرح بعض کمپنیاں اپنی پروڈکٹ کی جلد تلف ہوجانے والے مادے یعنی بائیو ڈی گریڈ ایبل پیکنگ کرتی ہیں جو بہت جلدی زمین کا حصہ بن جاتا ہے۔

پلاسٹک کی تباہ کاری کے بارے میں مزید مضامین پڑھیں


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں