The news is by your side.

Advertisement

وہ مدد جو کسی کی جان بچا سکتی ہے

آج دنیا بھر میں ابتدائی طبی امداد کا عالمی دن منایا جارہا ہے، اس دن کو منانے کا مقصد ابتدائی طبی امداد دینے کی اہمیت اجاگر کرنا ہے تاکہ کسی کی جان بچائی جاسکے۔

ابتدائی طبی امداد وہ ہے جو کسی طبی ایمرجنسی کا شکار شخص کو دی جائے اور اسے اتنا سنبھالا جاسکے کہ ڈاکٹر یا طبی عملے کے آنے تک وہ بچ سکے، ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ہمیں ابتدائی طبی امداد دینی آتی ہو تو ہم کسی کی جان بچانے کا سبب بن سکتے ہیں۔

اکثر اوقات کسی بھی حادثے کے بعد یا اچانک طبیعت خرابی کی صورت میں ڈاکٹر کے پاس جاتے ہوئے راستے میں ہی اکثر افراد انتقال کرجاتے ہیں، ایسے میں ابتدائی طبی امداد ہی ان کی جان بچا سکتی ہے۔

تاہم ابتدائی طبی امداد کو درست طور پر سیکھنا اور آزمانا ضروری ہے ورنہ ہماری مدد متاثرہ شخص کی تکلیف کو کم کرنے کے بجائے اور بڑھا سکتی ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق کسی ایمرجنسی کی صورت میں ابتدائی امداد فراہم کرتے ہوئے ان غلطیوں سے بچنا چاہیئے۔

مرگی کا دورہ

مرگی کا دورہ پڑنے کی صورت میں مریض کا جسم اکڑ جاتا ہے اور اس کے قریب موجود افراد کو یہ خدشہ ہوتا ہے کہ کہیں اس کی زبان دانتوں تلے آ کر کٹ نہ جائے۔ لہٰذا وہ زبردستی اس کا منہ کھول کر دانتوں کے درمیان کوئی چیز رکھ دیتے ہیں۔

یاد رکھیں، مرگی کے مریض کے ساتھ زور آزمائی کرنا یا زبردستی اس کا منہ کھلوانا اس کے دانتوں کو توڑنے کا سبب بن سکتا ہے۔

یہ خیال دل سے نکال دیں کہ اس کی زبان دانتوں کے درمیان آکر کٹ سکتی ہے کیونکہ جسم کے دیگر حصوں کی طرح مریض کی زبان بھی اکڑ جاتی ہے لہٰذا وہ اپنی جگہ پر ہی رہتی ہے۔

جلنے کی صورت میں

اگر آپ کے قریب موجود کسی شخص کے جسم کا کوئی حصہ جل جائے تو فوراً اس پر کوئی کریم لگانے سے گریز کریں۔ جلے ہوئے حصے کو 10 سے 15 منٹ کے لیے ٹھنڈے پانی میں رکھیں یا ٹھنڈے پانی کی دھار دیں۔ جلنے کے 20 منٹ بعد کریم لگانا بہتر ہے۔

ایکسیڈنٹ کی صورت میں

اگر خدانخواستہ آپ کا سامنا سڑک پر کسی حادثے سے ہو تو متاثرین کی سب سے بہترین مدد یہ ہے کہ آپ جلد سے جلد ایمبولینس کو بلوائیں۔

الٹی ہوئی گاڑیوں سے زخمی افراد کو کھینچ کھانچ کر نکالنا نہایت خطرناک ہے کیونکہ آپ کو نہیں معلوم کہ اندر موجود شخص کس طرح کا زخمی ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو آپ اس کی مدد کرنے کے بجائے اسے مزید نقصان پہنچا دیں۔

ایمبولینس کا تربیت یافہ عملہ جانتا ہے کہ گاڑیوں میں پھنسے افراد کو کس طرح نکالنا ہے لہٰذا انہیں ان کا کام سر انجام دینے دیں۔ آپ صرف اتنا کریں کہ گاڑی سے باہر موجود جسم کے حصے سے خون کو (اگر بہہ رہا ہو تو) روکنے کی کوشش کریں۔

چوکنگ کی صورت میں

کھانا کھاتے یا پانی پیتے ہوئے کسی کو یکدم جھٹکا لگے اور کھانا اس کی سانس کی نالی میں پھنس جائے تو پیٹھ پر مارنا ایک غلط عمل ہے۔ اس کے برعکس پیٹھ کو سہلایا جائے۔

فروسٹ بائٹ کی صورت میں

سرد علاقوں میں رہنے والے افراد اکثر فروسٹ بائٹ کا شکار ہوجاتے ہیں یعنی سخت سردی کے باعث ان کے جسم کے کسی حصہ میں خون جم جاتا ہے۔ اگر اسے فوری بحال نہ کیا جائے تو جسم کا یہ حصہ ناکارہ بھی ہوسکتا ہے۔

فروسٹ بائٹ کی صورت میں اس حصے کو رگڑنے یا تیز گرم پانی میں ڈالنے سے گریز کریں۔ متاثرہ حصے کو نیم گرم پانی میں ڈبوئیں اور آہستہ آہستہ خون کی روانی بحال ہونے دیں۔

بخار کی صورت میں

ایک عام خیال یہ ہے کہ بخار ہونے کی صورت میں مریض کو گرم کپڑوں سے ڈھانپ دیا جائے تاکہ اسے پسینہ آئے اور اس سے بخار اتر جائے۔

درحقیقت بخار کے مریض کو معمول کے مطابق رہنے کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ اس کے جسم کا زائد درجہ حرات باہر نکل جائے۔

سب سے اہم بات

کسی کی مدد کرتے ہوئے سب سے اہم بات یہ ہے کہ حواس بحال رکھتے ہوئے منطقی تدابیر اپنائیں۔ اچانک، بغیر سوچے سمجھے مدد کے لیے دوڑ پڑنے اور جو سمجھ آئے وہ کرنے سے گریز کریں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں