دنیا کا پہلا ’’ہیڈ ٹرانسپلانٹ‘‘ چین میں آئندہ برس کے اوائل میں ہوگا head-transplant
The news is by your side.

Advertisement

دنیا کا پہلا ’’ہیڈ ٹرانسپلانٹ‘‘ چین میں آئندہ برس ہوگا

بیجنگ : میڈیکل سائنس کی تاریخ کا سے پیچیدہ اور متنازع آپریشن ’’ہیڈ ٹرانسپلانٹ‘‘ اگلے برس کے اوائل میں روسی مریض کے انکار کے بعد اب ایک چینی مریض کا کیا جائے گا۔

دنیا میں سر کے پہلے ٹرانسپلانٹ کی تیاری اس وقت ماند پڑ گئی تھی جب دسمبر 2017 میں ہونے والی اپنی نوعیت کی پہلے اور منفرد لیکن متنازع اور خطرناک سرجری کے لیے روسی مریض نے عین موقع پر انکار کردیا تھا جو اب چینی مریض پر آزمائی جائے گی جو اگلے سال کے پہلے چار مہینوں کے کسی دن ممکن ہے۔

آپریشن معطل ہونے کی وجہ روس کے وایلیری اسپرنڈینو کی جانب سے سرجری کرانے سے انکار ہے جنہوں نے اس سے قبل خود کو اس سرجری کے لیے رضا کارانہ طور پیش کیا تھا تا ہم عین موقع پر انہوں نے سرجری سے کرانے سے معزرت کرلی۔

ریڑھ کی ہڈی اور پٹھوں کی بیماری میں مبتلا ویلیری کا سرجری سے انکار کی وجہ بتاتے ہوئے کہنا تھا کہ سرجن مجھے اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے اور معمولات زندگی عام لوگوں کی طرح ادا کرنے تو کجا سرجری کے بعد زندہ بیدار ہونے تک کی ضمانت دینے سے قاصر تھے جس کے بنیاد پر میں نے سرجری نہ کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ میں اٹلی کے سرجن کے بجائے اپنے فیصلے خود کرنا چاہتا ہوں اس لیے میں اس خطرناک سرجری کے بجائے زیادہ محفوظ طریقہ علاج کو ترجیح دوں گا جس میں ایک اسٹیل کی راڈ کے ذریعے ریڑھ کی ہڈی کو سہارا دیا جاتا ہے اور یوں مریض کی کمر سیدھی ہو جاتی ہے اور وہ کئی کام کرنے کے قابل ہوجا تا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ریڑھ کی ہڈی کے دیگر آپریشن کے بعد امید کی جا سکتی ہے کہ میں اپنے پاؤں پر بھی کھڑا ہو سکتا ہوں اور اس طریقہ علاج میں سر کی ٹرانسپلانٹ کی نسبت نقصان کی شرح بھی نہ ہونے کے برابر ہے۔

دوسری جانب نیورو سرجن سرجیو کیناویرو کا کہنا ہے کہ سرجری اب ایک چائنیز مریض کی جائے گی جو کہ اس آپریشن کے لیے تیار ہے اور جس کے لیے ایک چینی سرجن بھی میرے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔

اٹلی سے تعلق رکھنے والے سرجن کا مزید کہنا تھا کہ اگلے سال کے شروع میں چین میں یہ آپریشن کردیا جائے گا جس کے مثبت نتائج کے لیے میں اور میری ٹیم نہایت پُرامید ہے تاہم اس آپریشن کی کوئی حتمی تاریض ابھی نہیں دی جاسکتی۔

انہوں نے آپریشن کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ میڈیکل سائنس میں انقلاب برپا کردینے والے اس ٹرانسپلانٹ میں 11 ملین ڈالر کی لاگت آئے گی اور یہ پیچیدہ آپریشن 150 ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف پر مشتمل ٹیم 36 گھنٹوں میں مکمل کر پائے گی۔

دوسری جانب دنیا بھر کے مایہ ناز نیورو سرجنز نے ’’ہیڈ ٹرانسپلانٹ‘‘ کو موت سے زیادہ ہولناک قرار دیتے ہوئے کہنا ہے کہ اگر یہ آپریشن کامیاب بھی ہوجاتا ہے تو دماغ نئے جسم کے ساتھ تعاون کرنے سے انکار کردے گا اوراس صورت میں مریض کو ایسے شدید نفسیاتی مسائل کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے جن کا آج تک کبھی تجربہ نہیں کیا گیا۔

نیورو سرجنز کے ایک گروپ نے ’’ہیڈ ٹرانسپلانٹ‘‘ کو دیوانے کے خواب سے تعبیر کرتے ہوئے کہنا تھا کہ سرجن سرجیو کیناویرو سستی شہرت حاصل کرنے اور میڈیا کی توجہ اپنی جانب مرکوز کرانے کے لیے اس قسم کے غیر حقیقی دعوے کر رہے ہیں جن کا اختتام محض ناکامی اور تباہی کے سوا کچھ نہیں۔

ویڈیو دیکھیں:

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں