The news is by your side.

Advertisement

آج دنیا بھرمیں خوراک کا عالمی دن منایا جارہا ہے

کراچی: پاکستان سمیت دنیا بھر میں خوراک کا عالمی دن منایا جارہا ہے، پاکستان بھوک کا شکار ممالک میں گیارہویں نمبر پر ہے۔

آج کی دنیا جہاں ایک جانب اپنی تاریخ کے جدیدترین دور میں داخل ہونے پر فخر کر رہی ہےوہیں اس جدید دنیا میں عوام کی کثیر تعداد بھوک و پیاس کا شکار ہے ، اور آج بھی یہی سوال درپیش ہے کہ کیا دنیا بھوک و پیاس کم کرنے کے وسائل پیدا کرسکی۔

خوراک کا عالمی دن منانے کا آغاز انیس سو اناسی سے ہوا، اقوام متحدہ نے اس سال کا عنوان ’’موسم بدل رہا ہے ‘ غذا اور زراعت کو بدلیے ‘‘ تجویز کیا ہے، اقوام متحدہ خوراک کو بہتر بنانے کیلئے مشترکہ زراعت کو بھی اہمیت دی رہا ہے۔

گلوبل ہنگر انڈیکس کے مطابق اس وقت دنیا بھر میں اسی کروڑ سے زیادہ افراد دو وقت کی روٹی سے محروم ہیں، جن میں بائیس ممالک ایسے ہیں، جو شدید غذائی بحران کا شکار ہیں، ان میں سے سولہ ممالک میں قدرتی آفات کی وجہ سے غذائی بحران بڑھا۔

بھوک کے شکارممالک میں پاکستان گیارہویں نمبر پر*

دنیا بھر کا جائزہ لیا جائے تو بھوک کی شرح سب سے زیادہ ایشیاء کے ممالک میں ہے، بھوک کا شکار ممالک میں پاکستان کا نمبرگیارہواں ہے اور یہاں کی اٹھارہ کروڑ سے زائد آبادی میں سے پانچ کروڑ افراد ایسے ہیں، جنھیں پیٹ بھرکر روٹی میسر نہیں۔

سال 2008 میں پاکستان کے پوائنٹس 35 اعشاریہ ایک تھے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اب یہاں بھوک میں کمی کچھ کم ہوئی ہے۔لیکن درجہ بندی سے معلوم ہوتا ہے کہ اب بھی غذا کی قلت کے شکار ممالک میں پاکستان تشویشناک صورتحال سے دوچار ممالک میں شامل ہے۔

پاکستان میں کل آبادی کا 22 فیصد حصہ غذا کی کمی کا شکار ہے اور آٹھ اعشاریہ ایک فیصد بچے پانچ سال سے کم عمر میں ہی وفات پا جاتے ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں