The news is by your side.

Advertisement

عالمی یوم صحت: اچھی صحت کے لیے دواؤں سے زیادہ کارآمد عادات

ایک عام خیال ہے کہ بہترین صحت کے لیے متوازن غذاؤں کا استعمال، ورزش اور کسی بیماری کی صورت میں فوری طور پر ڈاکٹر سے علاج کروانا اور دوائیں لینا ضروری ہے۔

مندرجہ بالا اشیا صحت کی بہتری کے لیے یقیناً ضروری ہیں۔ لیکن ہم صحت کی بہتری کے لیے چند ضروری اشیا اور عادات کو بھول جاتے ہیں جن کی عدم موجودگی متوازن غذاؤں اور دواؤں کے باوجود ہمیں بیمار رکھتی ہیں۔

آج صحت کے عالمی دن کے موقع پر یہ عادات اپنا کر صحت مند زندگی کی طرف پہلا قدم بڑھائیں۔


ذہنی سکون

اگر آپ ذہنی طور پر پریشان اور بے سکون ہیں اور اس کے لیے کسی ماہر نفسیات سے مہنگی دوائیں خرید کر کھا رہے ہیں تو آپ اپنے علاج کے اہم پہلو کو نظر انداز کر رہے ہیں۔

ان چیزوں میں الجھے رہنا جو آپ کو ذہنی طور پر بے سکون کردیں۔

دفتر یا گھر میں لڑائی جھگڑا عموماً ذہن کو پریشان کردیتا ہے اور آپ کوئی بھی دماغی کام کرنے کے قابل نہیں رہتے، لہٰذا جب بھی ایسا کوئی موقع آئے آپ اس جگہ سے دور چلے جائیں اور معاملے سے قطعاً دور رہنے کی کوشش کریں۔

مزید پڑھیں: کیا آپ ذہنی الجھنوں کا شکار ہیں؟

کسی دانا کا قول ہے، ’جب بھی 2 ہاتھیوں میں لڑائی ہو تو چیونٹی کو فوراً اپنے بھاگنے کی فکر کرنی چاہیئے‘۔

اسی طرح اسمٰعیل میرٹھی کا شعر ہے۔

جبکہ دو موزیوں میں ہو کھٹ پٹ
اپنے بچنے کی فکر کر جھٹ پٹ

اگر آپ دماغی طور پر بے سکون ہیں تو آپ بالکل اسی چیونٹی کی طرح ہیں جو کسی دوسرے کی لڑائی میں خوامخواہ کچلی جاتی ہے۔

ہاں البتہ اگر آپ لڑائی جھگڑے کے شوقین ہیں تو پھر بہترین ماہر نفسیات کی مہنگی سے مہنگی دوا بھی آپ کو سکون نہیں دے سکتی۔


دلی سکون

اسی طرح آپ کے دل کو نہایت پرسکون اور اطمینان سے بھرپور ہونا چاہیئے۔ غصہ، نفرت، حسد، انتقام ان تمام جذبات کو اپنے دل سے نکال پھینکیں۔ چیزوں کو درگزر کرنے اور معاف کرنے کی عادت ڈالیں۔

بعض افراد غصے میں برا کہہ دیتے ہیں اور پھر پچھتاتے ہیں کہ انہوں نے ایسا کیوں کہا۔ اس کا سب سے آسان حل یہ ہے کہ جس سے آپ نے غصے میں گفتگو کی اس سے معذرت کرلیں۔ یہ عات آپ کے دل کو بہت سکون پہنچائے گی۔

مزید پڑھیں: بے رنگ زندگی کو تبدیل کرنے والی 5 عادات

اچھی چیزوں کو سراہیں۔ اگر کوئی شے بری ہے تو اس کی برائی کرنے کے بجائے وہاں سے ہٹ جائیں۔

اسی طرح ان کاموں کو جنہیں آپ بہت شوق سے کرتے ہیں، جیسے لکھنا، شاعری، مطالعہ، مصوری، موسیقی وغیرہ انہیں ادھورا مت چھوڑیں۔ جب تک کوئی ادھورا کام آپ کے سر پر لٹکتا رہے گا آپ کبھی بھی سکون کی سانس نہیں لے سکیں گےاور مستقل ذہنی اور دلی بوجھ کا شکار رہیں گے۔


روحانی سکون

جب آپ کا دل اور دماغ پرسکون ہوگا تو لازماً آپ خود کو روحانی طور پر بھی پرسکون محسوس کریں گے۔ روحانی سکون کے لیے وہ کام کریں جنہیں کرنے کا آپ کو شوق ہو۔

عبادت کریں۔ جس خدا کو بھی مانتے ہیں اس کے آگے روئیں، گڑگڑائیں۔ رونے سے آپ کا کتھارسس ہوگا اور آپ خود کو ہر طرح سے پرسکون محسوس کریں گے۔


محبت کریں

لوگوں سے محبت کرنے کی عادت ڈالیں۔ پہلی نظر میں لوگوں کو جانچنے، پرکھنے اور پھر اس کی بنیاد پر کوئی رائے قائم کرنے سے گریز کریں۔

اپنے آس پاس موجود لوگوں سے ہمدردی کا رویہ اپنائیں۔ اپنے سے چھوٹے درجے پر موجود لوگوں جیسے ملازمین، ڈرائیورز وغیرہ سے بھی نرمی سے بات کریں تاکہ انہیں بھی یہ احساس ہو کہ آپ انہیں انسان سمجھتے ہیں۔

جانوروں سے محبت کریں۔ آوارہ کتے یا بلیوں کو اس وقت تک دھتکارنے سے گریز کریں جب تک وہ آپ کو نقصان نہیں پہنچاتے۔ کسی جانور کو مشکل میں دیکھیں تو پولیس اسٹیشن یا کسی امدادی ادارے کو طلب کر کے انہیں اس مشکل سے بچایا جاسکتا ہے۔

مزید پڑھیں: پالتو جانور رکھنے کے حیران کن فوائد

فطرت کو سراہیں۔ موسموں کی خوشبو، سورج کی مختلف روشنیوں، رنگوں کو دیکھیں۔ چاند کو مختلف تاریخوں میں دیکھیں۔ رات کی سکون اور تنہائی کو محسوس کریں۔ پھولوں کے کھلنے کو سراہیں، ان کی خوشبو سونگھیں۔

جتنا زیادہ آپ فطرت کے قریب جائیں گے اتنا ہی زیادہ آپ میں محبت، نرمی اور ہمدردی کا جذبہ پیدا ہوگا۔


ہنسیں

کیا آپ جانتے ہیں کہ مسکرانا اور قہقہہ لگانا آپ کے دماغ میں موجود تناؤ پیدا کرنے والے کیمیائی اجزا کو کم کرتا ہے۔ کسی پریشان کن صورتحال میں کوئی مزاحیہ فلم یا ڈرامہ دیکھنا اور اس پر ہنسنا یکلخت آپ کی پریشانی کو دور کردے گا اور آپ کا دماغ ہلکا پھلکا ہوجائے گا۔

اس کے بعد آپ نئے سرے سے تازہ دم ہوکر اس پریشانی کا منطقی حل سوچنے کے قابل ہوسکیں گے۔

مزید پڑھیں: مسکراہٹ پھیلائیں

اپنے آس پاس ہونے والی دلچسپ گفتگو اور چیزوں سے لطف اندوز ہوں اور ہنسیں۔ لوگوں سے مسکرا کر ملیں۔ حتیٰ کہ کوئی اجنبی بھی اگر آپ سے ٹکرا جائے تو مسکرا کر اس سے معذرت کر کے ہٹ جائیں۔


یاد رکھیں دماغی طور پر پرسکون رہنا آپ کی تخلیقی صلاحیتوں کو ابھارتا ہے اور آپ کی زندگی میں مثبت تبدیلیاں پیدا کرتا ہے۔ چنانچہ منفی چیزوں اور عادات سے پرہیز کریں اور اپنی سوچ کو مثبت رکھیں۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں