site
stats
لائف اسٹائل

عالمی ثقافتی ورثے میں شامل پاکستان کے 6 مقامات

آج پاکستان سمیت دنیا بھر میں ثقافتی ورثے کا عالمی دن منایا جارہا ہے۔ پاکستان کے 6 مقامات عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل ہیں جو تاریخی و سیاحتی لحاظ سے نہایت اہمیت کے حامل ہیں۔

ثقافتی دن کو منانے کا مقصد قدیم تہذیبوں کی ثقافت اور آثار قدیمہ کو محفوظ کرنا اوراس کے بارے میں آگاہی وشعور اجاگر کرنا ہے۔

اقوام متحدہ کے ثقافتی ادارے یونیسکو کی جانب سے مرتب کی جانے والی عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں پاکستان کے 6 مقامات بھی شامل ہیں۔

موہن جو دڑو

پاکستان کے صوبے سندھ میں موجود ساڑھے 6 ہزار سال قدیم آثار قدیمہ موہن جو دڑو کو اقوام متحدہ نے عالمی ثقافتی ورثے میں شامل کیا ہے۔

ان آثار کو سنہ 1921 میں دریافت کیا گیا۔

ٹیکسلا

صوبہ پنجاب کے شہر راولپنڈی میں واقع ٹیکسلا گندھارا دور میں بدھ مت اور ہندو مت کا مرکز سمجھا جاتا تھا۔

تخت بائی کے کھنڈرات

تخت بھائی (تخت بائی یا تخت بہائی) پشاور سے تقریباً 80 کلو میٹر کے فاصلے پر بدھ تہذیب کی کھنڈرات پر مشتمل مقام ہے اور یہ اندازاً ایک صدی قبل مسیح سے تعلق رکھتا ہے۔

شاہی قلعہ ۔ شالامار باغ لاہور

صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں واقعہ شاہی قلعہ، جسے قلعہ لاہور بھی کہا جاتا ہے مغل بادشاہ اکبر کے دور کا تعمیر کردہ ہے۔

شالامار باغ ایک اور مغل بادشاہ شاہجہاں نے تعمیر کروایا۔ شاہجہاں نے اپنے دور میں بے شمار خوبصورت عمارات تعمیر کروائی تھیں جن میں سے ایک تاج محل بھی ہے جو اس کی محبوب بیوی ممتاز محل کا مقبرہ ہے۔

مکلی قبرستان ۔ ٹھٹھہ

صوبہ سندھ کے قریب ٹھٹھہ کے قریب واقع ایک چھوٹا سا علاقہ مکلی اپنے تاریخی قبرستان کی بدولت دنیا بھر میں مشہور ہے۔ اس قبرستان میں چودھویں صدی سے اٹھارویں صدی تک کے مقبرے اور قبریں موجود ہیں۔

ان قبروں پر نہایت خوبصورت کندہ کاری اور نقش نگاری کی گئی ہے۔

قلعہ روہتاس

صوبہ پنجاب میں جہلم کے قریب پوٹھو ہار اور کوہستان نمک کی سرزمین کے وسط میں یہ قلعہ شیر شاہ سوری نے تعمیر کرایا تھا۔

یہ قلعہ جنگی مقاصد کے لیے تیار کیا گیا تھا۔


پاکستان کے ان خوبصورت مقامات کی سیر آپ کو کیسی لگی؟ ہمیں کمنٹس میں ضرور بتائیں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top