The news is by your side.

Advertisement

سنہ 2045 میں دنیا کیسی ہوگی؟

آج سے تقریباً 30 سال بعد یعنی سنہ 2045 میں دنیا کیسی ہوگی؟ اگر آپ کو اس سوال کا جواب جاننے کی جستجو ہے تو یہ آپ کو امریکی عسکری ادارے پینٹاگان کے ماہرین سے مل سکتا ہے۔

عالمی اقتصادی فورم کی جانب سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پینٹاگان کے تحقیقی ادارے ڈی اے آر پی اے نے سنہ 2045 کی زندگی کی ایک جھلک پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔

ڈارپا کی ایک سائنس دان ڈاکٹر جسٹن کہتی ہیں کہ ایک بات تو طے ہے کہ اس وقت ہم بہت سی چیزوں کو صرف اپنے دماغ کی لہروں سے کنٹرول کر رہے ہوں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کے لیے ہم صرف دماغ سے سوچیں گے یا آواز دے کر حکم دیں گے اور بہت سی چیزیں عمل میں آنا شروع ہوجائے گی۔

‘خلائی مخلوق کو بلانا خطرناک اور دنیا کی تباہی کا سبب’ *

ڈاکٹر جسٹن کے مطابق اس کی ایک مثال تو ابھی بھی موجود ہے کہ کس طرح ہم اپنے جسم سے جڑے مصنوعی ہاتھ پاؤں کو دماغ سے سوچ کر حرکت دے سکتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ مستقبل میں ہم ایسی تعمیرات کرنے کے قابل بھی ہوجائیں گے جو بہت مضبوط ہوں گی لیکن وزن میں بے حد کم ہوں گی۔ ڈکٹر جسٹن نے یہ بھی کہا کہ ممکن ہے کہ 2045 تک ہم ایسے طیاروں میں سفر کرنے لگیں جو پائلٹ کے بغیر اڑا کریں۔

آئیے دیکھتے ہیں کہ سنہ 2045 میں ہم کیسی زندگی گزاریں گے۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں