The news is by your side.

Advertisement

ارتھ آور: دنیا کی ہزاروں اہم عمارتوں کی روشنیا ں گل کردی گئیں

زمین کو ماحولیاتی آلودگی سے بچانے کے لیے گذشتہ شب پیرس کے ایفل ٹاور، لندن میں بگ بین اور پیکّاڈلی سرکس کی لائٹیں گل کر کے ارتھ آور ٓمنایا گیا۔

تفصیلات کے مطابق زمین کو ماحولیاتی خطرات سے بچانے اور اس پر توانائی کے بے تحاشہ بوجھ کو کم کرنے کے لیے گذشتہ شب اسلام آباد،پیرس، لندن، برلن، اسکوٹ لینڈ، ماسکو، نئی دہلی، کوالالمپور، سڈنی سمیت دنیا کے 5000 سے زائد شہروں میں علامتی طور پر ارتھ آور منایا گیا۔

ارتھ آور کے موقع پر پاکستانی پارلیمنٹ کی برقی روشنیاں گل کرنے شمعیں جلائی گئی

دنیا کے 180 ممالک میں 24 مارچ کو ماحولیاتی تبدیلی کے حوالے منایا جانے والا ارتھ آور 2007 میں سڈنی کے اوپیرا ہاوس کی روشنیوں کو بجھا کر منایا گیا تھا جس میں ایک کروڑ سے زائد شہریوں نے شرکت کرکے عالمی سطح پر ماحولیاتی تبدیلی کے حوالے متحد ہونے کا پیغام دیا تھا۔

ارتھ آور کے موقع پر پیرس کے ایفل ٹاور لائٹس بند ہیں

فرانس کے دارالحکومت پیرس کے ناظم اینی ہیڈالگو کہتے ہیں کہ ایفل ٹاور سمیت شہر کی 300عمارتوں میں اندھیرا کر کے فرانس کی عوام نے ’عالمگیر پیغام‘ دیا گیا ہے۔

دوسری جانب بھارت کے وزیر ماحولیات ہرش وردہان کا کہنا تھا کہ ارتھ آور کہ یہ ساٹھ منٹ ہمارے لیے رویوں اور ثقافت میں تبدیلی کا بہترین موقع ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ نئی دہلی میں واقع پہلی عالمی جنگ کی یادگار پر ہزاروں کی تعداد میں شہری کھانے پینے کی اشیاء لے کر جمع تھے لیکن ارتھ آور کے ایک گھنٹے میں تمام شہریوں نے مکمل اندھیرا کرکے ماحولیاتی تبدیلی کا پیغام دیا۔

جبکہ اردن کی رائل سوسائٹی نے عمان کے پہاڑوں پر 11،440 موم بتیاں جلا کر ورلڈ ریکارڈ قائم کیا۔ اردن کی انتظامیہ نے موم بتیوں سے ارتھ آور کا نشان بنایا تاہم تیزہواؤں کے باعث کچھ ہی دیرمیں بیشتر شمعیں گل ہوگئیں۔

دنیا بھر میں ماحولیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں کرہ ارض کا درجہ حرارت بڑھتا ہی جارہا ہے جس کے سبب ماحول پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔لوگوں کو اس حوالے سے آگاہی فراہم کرنا ارتھ آور کا اہم مقصد ہے۔

خیال رہے کہ دنیا میں سب سے پہلے ارتھ آور کا آغاز سڈنی میں ہوا تھا جہاں زمین سے محبت کرنے والے ایک کروڑ سے زائد افراد نے اوپیرا ہاوس کی رضا کارانہ طور پر بتیاں بجھا دیں، انٹرنیشنل ارتھ آور منانے کا مقصد ماحولیاتی تبدیلی کے حوالے سے عوامی شعور اجاگر کرنا ہے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں