site
stats
صحت

تمباکو نوشی دنیا بھر میں 70 لاکھ افراد کی ہلاکت کا سبب

پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج انسداد تمباکو نوشی کا عالمی دن (نو ٹوبیکو ڈے) منایا جارہا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق تمباکو نوشی ہر سال دنیا بھر میں 70 لاکھ افراد کی موت کی وجہ بن رہی ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق تمباکو نوشی کی پیداوار، اسے بنانے کا عمل اور اس کا استعمال ماحولیاتی آلودگی کا سبب بھی بن رہا ہے۔

ادارے کے مطابق تمباکو نوشی ہر شعبہ زندگی کو منفی طور پر متاثر کرتی ہے اور یہ غربت میں اضافے، جسمانی و دماغی کارکردگی میں کمی، صحت میں خرابی اور کسی جگہ کی فضائی آلودگی میں اضافے کا سبب بنتی ہے۔

مزید پڑھیں: معاوضہ کی پیشکش تمباکو نوشی چھوڑنے میں مددگار

آج کے دن کے حوالے سے خصوصی طور پر جاری کی جانے والی رپورٹ کے مطابق صرف چند سالوں میں سگریٹ سے ہلاک ہونے والوں کی سالانہ تعداد 40 لاکھ سے بڑھ کر 70 لاکھ ہوگئی ہے۔

ڈبلیو ایچ او نے تجویز دی ہے کہ تمباکو نوشی کا رجحان کم کرنے کے لیے اس پر مختلف ٹیکس عائد کیے جائیں تاکہ یہ کم آمدنی والے طبقے کے افراد کی پہنچ سے باہر ہوجائے۔

سگریٹ نوشی پاگل پن کی وجہ

سنہ 2015 میں سگریٹ نوشی سے متعلق ایک تحقیق کے انوکھے نتائج نے سائنس دانوں کو حیران کردیا۔

تحقیق کے مطابق کسی شخص میں پاگل پن کی شروعات میں سگریٹ نوشی ایک اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

اس تحقیق کے لیے 15 ہزار تمباکو نوش اور 2 لاکھ 73 ہزار غیر تمباکو نوش افراد کا تجزیہ کیا گیا اور یہ جاننے کی کوشش کی گئی کہ ان دونوں گروپوں میں سے کون سے گروپ میں شیزو فرینیا یا پاگل پن میں مبتلا ہونے کے زیادہ امکانات ہیں۔

مکمل اور جامع تجزیے کے بعد سائنسدان اس نتیجہ پر پہنچے کہ تمباکو نوش افراد دراصل نان اسموکرز کے مقابلے میں التباسات، اوہام، وسوسوں اور غیر حقیقی خیالی تجربات کا زیادہ شکار ہو سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں: بڑوں کی تمباکو نوشی دیکھنے والے بچوں کی نفسیات میں تبدیلی

گویا تمباکو نوشی شیزو فرینیا کی ان بنیادی علامات میں اضافے کا باعث بن سکتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق اس مفروضے کی مکمل سائنسی صداقت کے لیے مزید ریسرچ کی ضرورت ہے، تاہم ان کی تحقیق کے ابتدائی نتائج کے مطابق سگریٹ نوش افراد سائیکوسس نامی مرض کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔

اس مرض کا شکار افراد میں خیالی و غیر حقیقی تصورات و خیالات غلبہ پا لیتے ہیں اور مریض کا حقیقی دنیا سے رابطہ بالکل کٹ جاتا ہے۔

کنگز کالج لندن کے انسٹی ٹیوٹ آف سائیکیٹری سے وابستہ نفسیاتی امراض کے ماہر جیمزمیکابے نے خبردار کیا کہ تمباکو نوشی کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے کیونکہ ممکنہ طور پر تمباکو نوشوں میں سائیکوسس کا شکار ہونے کے زیادہ امکانات ہیں۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top