The news is by your side.

Advertisement

عالمی یوم پولیو، خطیراخراجات کے باوجود پاکستان میں وائرس کا خاتمہ نہ ہوسکا

کراچی : آج دنیابھرمیں پولیوفری ڈے منایاجارہاہے۔ نائیجریابھی خود کوپولیو فری ممالک کی فہرست میں شامل کرانے میں کامیاب ہوگیا مگر بدقسمتی سے پاکستان لڑکھڑاتی دنیامیں ثابت قدم ہے۔

انسدادپولیو کی بھرپور مہم کے باوجودپاکستان سے مکمل طور پر وائرس کا خاتمہ نہ ہوسکا۔ اربوں روپے کے اخراجات کے بعدبھی ملک میں پولیو مہم ناکام رہی، دودہائیوں سےجاری بھرپور انسدادپولیو مہم ناکام ہی رہی۔

دنیا کےصرف دوممالک پولیو وائرس کی زدمیں ہیں،پاکستان اُن میں سےایک ہے، آج دنیابھرمیں پولیوفری ڈےمنایاجارہاہے مگرافسوس پاکستان اورافغانستان اُن ممالک میں شامل ہیں جہاں مہلک وائرس مستقبل اپاہج کرنے کے درپے ہے۔

پاکستان کوپولیوفری بنانےکیلئےسال بھرانسدادپولیومہم جاری رہتی ہے۔اربوں کی ادویات،کروڑوں کی تشہیری مہم، لاکھوں کےاخراجات اورنہ جانےکیاکیا جتن کئے جاتے ہیں۔ لیکن ان سب اقدامات کے باوجود پولیو کی بیماری اپنی جگہ قائم ہے۔

آج نائیجریابھی ان ملکوں کی فہرست میں شامل ہےجہاں بچے پولیو زدہ نہیں رہے۔ لیکن پاکستان اورافغانستان میں معذور مستقبل کے سیاہ بادل چھٹنے کو تیار نہیں۔

رپورٹس کےمطابق پاکستان کےقبائلی علاقوں میں آگاہی کی کمی پولیو کی بڑی وجہ ہے۔ خیبرپختونخوااور بلوچستان کے دوردرازعلاقوں میں رہائش پذیرشہریوں کوقدیم روایتوں اورسیکیورٹی خدشات نےجکڑاہواہے۔جولوگ ویکسین کےحق میں ہیں انہیں جاہلوں سے جان کاخوف ہے۔

ایسی ہی تشویشناک صورتحال پاکستان کےسب سےبڑےشہرکراچی کے بعض علاقوں میں بھی ہے۔ جہاں بھرپورکوشش اورسیکیورٹی کے باوجود انسدادپولیومہم چلانےمیں شدیددشواریاں درپیش ہیں۔

منگھوپیر،افغان بستی،سہراب گوٹھ کی مچھر کالونی،مشرف کالونی اورلیاری کےکئی علاقوں میں والدین بچوں کی ویکسینشن کےخلاف ہیں، دوہزارچودہ میں تین سوسےزائدپولیوکیسز رجسٹرڈ ہونےکےبعدپاکستان پرسفری پابندیاں لگادی گئی تھیں۔

رواں سال بیالیس بچوں میں وائرس کی تصدیق ہوئی۔ یہ تعداد وہ ہے جو رپورٹ ہوئی۔ پولیو زدہ بچوں کی تعداد اس کی کہیں زیادہ ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں