The news is by your side.

Advertisement

سنہ 2016 میں 48 صحافی فرائض کی انجام دہی کے دوران ہلاک

آج پاکستان سمیت دنیا بھر میں آزادی صحافت کا عالمی دن منایا جارہا ہے۔ کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹ کے مطابق گزشتہ برس دنیا بھر میں 48 صحافی پیشہ وارانہ امور کی انجام دہی کے دوران اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

آزادی صحافت کا عالمی دن منانے کا مقصد پیشہ وارانہ فرائض کی بجا آوری کے لیے صحافتی اداروں کو درپیش مشکلات، مسائل، دھمکی آمیز رویے، صحافیوں کی زندگیوں کو درپیش خطرات کے متعلق دنیا کو آگاہ کرنا، آزادی صحافت پر حملوں سے بچاؤ اور صحافتی فرائض کے دوران قتل، زخمی یا متاثر ہونے والے صحافیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرنا ہے۔

اس دن کے انعقاد کی ایک وجہ معاشروں کو یہ یاد دلانا بھی ہے کہ عوام کو حقائق پر مبنی خبریں فراہم کرنے کے لیے کتنے ہی صحافی اس دنیا سے چلے گئے اور کئی پس زنداں ہیں۔

ورلڈ پریس فریڈم ڈے کو منانے کا آغاز 1993 میں ہوا تھا جس کی منظوری اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے دی تھی۔

صحافت کو ریاست کا چوتھا ستون تسلیم کیا جاتا ہے تاہم اس کے باوجود پاکستان میں اہل صحافت نے پابندیوں کے کالے قوانین اور اسیری کے مختلف ادوار دیکھے ہیں۔

صحافت کی موجودہ آزادی کسی کی دی ہوئی نہیں بلکہ یہ صحافیوں کی جدوجہد کا نتیجہ ہے جنہوں نے عقوبت خانوں میں تشدد سہا، کوڑے کھائے اور پابند سلاسل رہے۔

کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹ کے مطابق اس پیشے میں متاثر ہونے والے صحافیوں کی 75 فیصد تعداد وہ ہے جو جنگوں کے دوران اور جنگ زدہ علاقوں میں اپنے فرائض انجام دیتے ہیں۔

کمیٹی کے اعداد و شمار کے مطابق 38 فیصد تعداد سیاسی مسائل کی کھوج (رپورٹنگ) کے دوران مختلف مسائل بشمول دھمکیوں، ہراسمنٹ اور حملوں کا سامنا کرتی ہے۔

تاہم تمام مشکلات کے باوجود عام لوگوں تک سچ پہنچانے کا سفر جاری ہے اور اس شعبے میں قدم رکھنے والا ہر نیا صحافی جان کی پرواہ کیے بغیر بلند مقاصد کے ساتھ اپنا سفر شروع کرتا ہے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں