site
stats
صحت

آج دنیا بھرمیں ریبیزکا عالمی دن منایا جارہا ہے

کراچی: آج پاکستان سمیت دنیا بھر میں سگ گزیدگی سے ہونے والی مہلک بیماری ’ریبیز‘ کا عالمی دن منایا جارہا ہے، اس کے سبب دنیا بھر میں ہزاروں لوگ ہر سال موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔

کتے کے کاٹنے سے ہونے والی بیماری ریبیز دنیا کی دسویں بڑی بیماری ہے، جس میں شرح اموات سب سے زیادہ ہے ، دنیا میں ہرسال ساٹھ ہزار سےزائد افراد ریبیز کے سبب موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔

اس سال اس دن کا عنوان رکھا گیا ہے ،’’ شعور دو، ویکسین دو اور ریبیز کا خاتمہ کرو‘‘۔

جاں بحق ہونے والے افراد کی بڑی تعداد ایشیا اور افریقا سے تعلق رکھتی ہے جس کی بنیادی وجہ آبادی کا تناسب اور مرض کے مہلک ہونے کے بارے میں آگاہی کا فقدان ہے ، 2010 میں صرف پاکستان میں سگ گزیدگی کے97 ہزار واقعات بنیادی صحت کے مراکز سے رپورٹ ہوئے تھے۔ مرکزی اسپتالوں میں جانے والے مریضوں کی تعداد اسکے علاوہ ہے ۔

ریبیز سے متعلق ایک عام تاثر یہ پے کہ یہ محض کتے کے کاٹنے سے ہوتا ہے لیکن ایسا نہیں بلکہ بندر، ریچھ یا بلی کے کاٹنے سے بھی ریبیز ہوسکتا ہے تاہم کتے کے کاٹنے سے اسکا تناسب 99 فیصد ہے۔ ریبیز کا مرض لاحق ہونے سے مریض میں ہائیڈرو فوبیا ہوجاتا ہے، وہ پانی اور روشنی سے ڈرنے لگتا ہے، مریض پر جو گزرتی ہے وہ تو وہی جانتا ہے لیکن اسے دیکھنے والے بھی بڑی اذیت کا شکار ہوتے ہیں۔

ایسے مریضوں کو اپنے ہی ہاتھوں تشدد سے بچانے کے لیے آخری چارہ کار کے طور پر رسیوں اور چارپائیوں کے ساتھ باندھ دیا جاتا ہے۔

کتے کے کاٹنے سے ہونے والے مرض کی کئی وجوہات ہوتی ہیں، بعض اوقات متاثرہ شخص یا اس کے گھر والے زخم کی معمولی سی نوعیت کے سبب اس واقعے کو سنجیدگی سے نہیں لیتے اور اس کے علاج کی طرف متوجہ ہونے کے بجائے روایتی قسم کی مرہم پٹی یا زخم میں مرچیں بھر کر بے خبر و مطمئن ہوجاتے ہیں، جب مرض کی شدت بڑھتی ہے، مریض کو تیز بخار، کپکپی، جھٹکے اور رال ٹپکنا شروع ہوتی ہے تو اس وقت علاج کی طرف متوجہ ہوتے ہیں، جب یہ مرض لاعلاج ہوچکا ہوتا ہے۔

کتوں کے کاٹنے سے پاکستان میں سالانہ 8 ہزار افراد ہلاک ہوتے ہیں اور اس کے تدارک کے لیے سالانہ 8 لاکھ حفاظتی ویکسین کی ضرورت ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top