The news is by your side.

Advertisement

ٹی بی کا عالمی دن: پاکستان تپ دق کا شکار ممالک میں چھٹے نمبر پر

پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج تپ دق یا ٹی بی سے بچاؤ کا عالمی دن منایا جا رہا ہے، پاکستان ٹی بی کے شکار ممالک میں چھٹے نمبر پر ہے۔

ٹی بی ایک ایسا مرض ہے جو پھیپھڑوں پر اثرانداز ہوتا ہے اور ہوا کے ذریعے ایک سے دوسرے شخص میں منتقل ہوسکتا ہے۔

عالمی ادارہ صحت ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ ٹی بی کا مرض دنیا بھر میں ہر روز 5 ہزار جانیں لے لیتا ہے، صرف 2018 میں اس مرض سے دنیا بھر میں 15 لاکھ افراد کی ہلاکت ہوئی۔

اعداد و شمار کے مطابق دنیا بھر میں ایک تہائی ٹی بی کے مریضوں میں مرض کی تشخیص ہی نہیں ہو پاتی، یا وہ علاج کی سہولیات سے محروم ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ غربت، غذائی قلت، گندے گھروں میں رہنا اور صفائی کا انتظام نہ ہونا ٹی بی سمیت بہت سی بیماریوں کا آسان شکار بنا دیتا ہے۔

اسی طرح پہلے سے مختلف امراض جیسے ایڈز یا ذیابیطس کا شکار ہونا، اور طویل عرصے تک تمباکو نوشی اور شراب نوشی کا استعمال بھی اس مرض میں مبتلا ہونے کے امکانات کو بڑھا دیتا ہے۔

کچھ عرصہ قبل جاری کی جانے والی ایک رپورٹ کے مطابق ٹی بی کے شکار ممالک میں پاکستان کا نمبر چھٹا ہے، رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ہر سال لگ بھگ 70 ہزار افراد ٹی بی کے باعث موت کا شکار ہوجاتے ہیں۔

ٹی بی کے باعث موت کا شکار ہونے والے افراد میں زیادہ تعداد خواتین کی ہے۔

تاہم پاکستان نے اس مرض کے خاتمے کے لیے قابل تعریف کوششیں کیں ہیں، ٹی بی کے خاتمے کی جدوجہد میں پاکستان کو عالمی رول ماڈل تسلیم کیا جاچکا ہے اور سنہ 2016 میں یو ایس ایڈ چیمپئینز آف ٹی بی ایوارڈ بھی پاکستان نے اپنے نام کیا۔

پاکستان میں سنہ 2025 تک تپ دق کی شرح میں 50 فیصد کمی کا ہدف رکھا گیا ہے جس پر کام جاری ہے۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں