بیت الخلا کی عدم موجودگی سماجی مسئلہ؟ -
The news is by your side.

Advertisement

بیت الخلا کی عدم موجودگی سماجی مسئلہ؟

دنیا بھر میں آج بیت الخلا کا عالمی دن یعنی ورلڈ ٹوائلٹ ڈے منایا جا رہا ہے۔ عالمی ترقیاتی ادارے واٹر ایڈ کے مطابق پاکستان کی لگ بھگ پونے 7 کروڑ آبادی صاف ستھرے بیت الخلا یا سرے سے ٹوائلٹ کی سہولت سے ہی محروم ہے جبکہ دنیا بھر میں ہر 8 میں سے 1 شخص کو محفوظ بیت الخلا تک رسائی دستیاب نہیں۔

سنہ 2013 سے اس دن کے انعقاد کا آغاز کیے جانے کا مقصد اس بات کو باور کروانا ہے کہ صحت و صفائی کو برقرار رکھنے کے لیے ایک محفوظ اور باقاعدہ بیت الخلا اہم ضرورت ہے۔ اس کی عدم دستیابی یا غیر محفوظ موجودگی بچوں اور بڑوں میں مختلف بیماریوں کا سبب بنتی ہے۔

un-post-1

یونیسف کا کہنا ہے کہ پاکستان دنیا کا پانچواں بڑا ملک ہے جہاں لوگ کھلے عام رفع حاجت کرتے ہیں۔ یعنی کل آبادی کے 13 فیصد حصے یا 2 کروڑ 5 لاکھ افراد کو ٹوائلٹ کی سہولت میسر نہیں۔ یہ تعداد زیادہ تر دیہاتوں یا شہروں کی کچی آبادیوں میں رہائش پذیر ہے۔

یونیسف ہی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں صفائی کی ناقص صورت حال کی وجہ سے روزانہ پانچ سال کی عمر کے 110 بچے اسہال، دست اور اس جیسی دیگر بیماریوں کے باعث ہلاک ہو جاتے ہیں۔

دوسری جانب دنیا بھر میں صفائی کی ناقص صورتحال کے باعث ہونے والی اموات کی شرح 2 لاکھ 80 ہزار سالانہ ہے۔

ٹوائلٹ ۔ ایک سماجی مسئلہ

گزشتہ برس بھارت میں بیت الخلا کی عدم موجودگی ایک سماجی مسئلہ بن کر سامنے آئی جب دیہاتوں میں کھلے عام رفع حاجت کے لیے جانے والی خواتین پر جنسی حملے ہوئے اور کئی خواتین زیادتی کا نشانہ بنیں۔

اس کے بعد بھارت میں بیت الخلا تعمیر کرنے کی ملک گیر مہم شروع ہوگئی جس میں بالی ووڈ اداکاروں نے بھی حصہ لیا۔ اس بارے میں آگاہی مہمات بھی شروع ہوئیں جس کے خاطر خواہ تنائج برآمد ہوئے۔

دو روز قبل ہی گوگل بھی بھارت کی اس مہم میں شامل ہوگیا ہے اور اس نے بھارتی عوام کو ٹوائلٹ تلاش کرنے کے لیے خصوصی میپ ایپلی کیشن متعارف کروا دی ہے۔

اس ایپ میں ٹوائلٹ کی تلاش کے لیے تقشے کے ساتھ ایک خصوصی ٹول متعارف کروایا گیا ہے جو لوگوں کو صاف عوامی ٹوائلٹس کی تلاش اور اس تک رسائی حاصل کرنے میں مدد فراہم کرے گا۔

پاکستان کہاں کھڑا ہے؟

نئی صدی کے آغاز میں طے کیے جانے والے ملینیئم ڈویلپمنٹ گولز میں (جن کا اختتام سنہ 2015 میں ہوگیا) صاف بیت الخلا کی فراہمی بھی ایک اہم ہدف تھا۔ پاکستان اس ہدف کی نصف تکمیل کرنے میں کامیاب رہا۔

رپورٹس کے مطابق سنہ 1990 تک صرف 24 فیصد پاکستانیوں کو مناسب اور صاف ستھرے بیت الخلا کی سہولت منظور تھی اور 2015 تک یہ شرح بڑھ کر 64 فیصد ہوگئی۔

سنہ 2016 سے آغاز کیے جانے والے اقوام متحدہ کے پائیدار ترقیاتی اہداف میں طے کیا گیا ہے کہ سنہ 2030 تک دنیا کے ایک ایک شخص کو صاف ستھرے بیت الخلا کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔

پاکستان اس ہدف کی تکمیل کے لیے پرعزم ہے۔ پاکستان میں یونیسف کی ترجمان انجیلا کیارنے کا کہنا ہے کہ پاکستان کے دیہی علاقوں میں باتھ روم کا استعمال بڑھ رہا ہے اور یہ ایک حیرت انگیز اور خوش آئند کامیابی ہے۔

ایک بہترین مثال

دیہی آبادیوں کو بیت الخلا استعمال کرنے پر مجبور کرنا بھی ایک مسئلہ ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ وہ سالوں سے کھلے میں رفع حاجت کرنے کے عادی ہیں۔ اس کی ایک بہترین مثال نیپال میں پیش کی گئی۔

نیپال میں حکومت عوامی تعاون کے ساتھ ملک بھر میں کھلے میں رفع حاجت کرنے کے عمل کو سنہ 2017 تک ختم کرنا چاہتی ہے۔

اس مقصد کے لیے دیہاتوں میں بچوں کو ایک رضاکارانہ عمل کے لیے تیار کیا گیا۔ یہ بچے ہر روز صبح کھیتوں میں نکلتے ہیں اور جہاں کہیں کسی شخص کو رفع حاجت کرتے پاتے ہیں تو اسے سیٹیاں بجا کر تنگ کرتے ہیں۔

بعد ازاں بچے اس مقام پر جہاں کسی شخص نے رفع حاجت کی ہو، ایک پیلا جھنڈا گاڑ کر اس شخص کا نام لکھ دیتے ہیں تاکہ وہ شرمندہ ہو کر دوبارہ گھر سے باہر یہ عمل نہ دہرائے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ صاف ستھرے بیت الخلا کے استعمال اور صحت و صفائی کو فروغ دینے کے لیے مؤثر اقدامات اور آگاہی مہمات چلائی جانی ضروری ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں