The news is by your side.

Advertisement

سیاحت کا عالمی دن: اگر فردوس بر روئے زمیں است

پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج سیاحت کا عالمی دن منایا جارہا ہے۔ پاکستان سیاحتی مقامات اور قدرتی مناظر کے حسن سے مالا مال ملک ہے اور وزیر اعظم عمران خان کی ہدایات پر ملک میں سیاحت کے فروغ کے لیے بے شمار اقدامات اٹھائے جارہے ہیں۔

سیاحت کا عالمی دن ورلڈ ٹورازم آرگنائزیشن کی ایگزیکٹو کونسل کی سفارشات پر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں قرارداد کی منظوری کے بعد سے 1970 سے ہر سال 27 ستمبر کو منایا جاتا ہے۔

اس دن کو منانے کا مقصد سیاحت کے فروغ، نئے سیاحتی مقامات کی تلاش، آثار قدیمہ کو محفوظ بنانے، سیاحوں کے لیے زیادہ سے زیادہ اور جدید سہولیات پیدا کرنے، سیاحوں کے تحفظ ، نئے سیاحتی مقامات تک آسان رسائی سمیت دیگر متعلقہ امور کو فروغ دینا ہے۔

پاکستان کا شمار اپنے جغرافیائی محل وقوع کے لحاظ سے دنیا کے ان خوش قسمت ممالک میں ہوتا ہے جہاں ایک جانب بلند و بالا پہاڑ ہیں تو دوسری جانب وسیع وعریض زرخیز میدان بھی موجود ہیں۔

دنیا کے بیشتر ممالک میں ایک بھی دریا نہیں بہتا جبکہ پاکستان کی سرزمین پر 17 بڑے دریا بہتے ہیں، یہاں سبزہ زار بھی ہیں اور ریگ زار بھی۔

آج ہم آپ کو پاکستان کے چاروں صوبوں میں سےمنتخب سیاحتی مقامات کے بارے میں معلومات فراہم کر رہے ہیں تاکہ آپ اپنی اگلی تعطیلات کے لیے جگہ کا انتخاب کرسکیں۔

گورکھ ہل

صوبہ سندھ کا مری کہلایا جانے والا گورکھ ہل سندھ کے شہردادو کے شمال مغرب کوہ کیر تھر پر واقع ہل اسٹیشن ہے۔ یہ صوبہ سندھ کا بلند ترین مقام ہے اور سطح سمندر سے 5 ہزار 688 فٹ بلند ہے جو کہ پاکستان کے مشہور ترین ہل اسٹیشن مری کا ہم پلہ ہے۔

کراچی سے گورکھ ہل اسٹیشن کا فاصلہ 400 کلومیٹر ہے۔

مہرانو وائلڈ لائف

سندھ کے علاقے کوٹ ڈیجی سے 2 کلو میٹر کے فاصلے پر مہرانو وائلڈ لائف سنکچری واقع ہے۔ یہ ایک وسیع و عریض محفوظ جنگل ہے جہاں مختلف اقسام کی جنگلی حیات کو تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔

یہاں ہزاروں کی تعداد میں جنگلی ہرن موجود ہیں جبکہ تیزی سے معدوم ہوتے کالے ہرن کو بھی یہاں تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے اور اب ان کی تعداد لگ بھگ 650 ہوگئی ہے۔

صحرائے تھر

سندھ کا صحرائے تھر پاکستان کی جنوب مشرقی اور بھارت کی شمال مغربی سرحد پر واقع ہے۔ اس کا رقبہ 2 لاکھ مربع کلومیٹر ہے۔ اس کا شمار دنیا کے نویں بڑے صحرا کے طور پر کیا جاتا ہے۔

صحرا میں ہندوؤں کے قدیم مندروں سمیت کئی قابل دید مقامات موجود ہیں۔ یہاں یوں تو سارا سال قحط کی صورتحال ہوتی ہے تاہم بارشوں کے بعد اس صحرا کا حسن نرالا ہوتا ہے۔

ہنگول نیشنل پارک

صوبہ بلوچستان میں واقع ہنگول نیشنل پارک پاکستان کا سب سے بڑا نیشنل پارک ہے جو 6 لاکھ 19 ہزار 43 ایکڑ رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔ کراچی سے 190 کلو میٹر دور یہ پارک بلوچستان کے تین اضلاع گوادر، لسبیلہ اور آواران کے علاقوں پر مشتمل ہے۔

اس علاقہ میں بہنے والے دریائے ہنگول کی وجہ سے اسکا نام ہنگول نیشنل پارک رکھا گیا ہے۔ اس علاقے کو 1988 میں نیشنل پارک کا درجہ دیا گیا۔ ہندوؤں کا معروف ہنگلاج مندر بھی اس پارک میں واقع ہے۔

یہ پارک کئی اقسام کے جنگلی درندوں، چرندوں، آبی پرندوں، حشرات الارض، دریائی اور سمندری جانوروں کا قدرتی مسکن ہے۔ امید کی دیوی یا پرنسز آف ہوپ کہلایا جانے والا 850 سال قدیم تاریخی مجسمہ بھی اسی نیشنل پارک کی زینت ہے۔

پیر غائب

بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سے 70 کلو میٹر کے فاصلے پر پیر غائب نامی مقبول تفریح گاہ ہے جہاں بلاشبہ بلوچستان کا سب سے خوبصورت آبشار واقع ہے۔

آبشار سے بہنے والا پانی چھوٹے تالابوں کی صورت میں جمع ہوتا ہے اور کھجور کے درختوں کے ساتھ مل کر انتہائی دل آویز منظر تشکیل دیتا ہے، یہاں آنے کے لیے سبی روڈ سے جیپ لینا پڑتی ہے۔

کھیوڑہ کی نمک کی کانیں

پاکستان کے ضلع جہلم میں کھیوڑہ نمک کی کان واقع ہے۔ یہ جگہ اسلام آباد سے 160 جبکہ لاہور سے تقریباً 250 کلومیٹر فاصلہ پر ہے۔ کھیوڑہ میں موجود نمک کی یہ کان جنوبی ایشیا میں قدیم ترین کان ہے اور یہ دنیا کا دوسرا بڑا خوردنی نمک کا ذخیرہ ہے۔

اس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ جب سکندر اعظم 322 قبل مسیح میں اس علاقے میں آیا تو اس کے گھوڑے یہاں کے پتھر چاٹتے ہوئے دیکھے گئے۔ ایک فوجی نے پتھر کو چاٹ کر دیکھا تو اسے نمکین پایا۔ یوں اس علاقے میں نمک کی کان دریافت ہوئی۔

اس کے بعد یہ کان یہاں کے مقامی راجہ نے خرید لی اور قیام پاکستان تک یہ کان مقامی جنجوعہ راجوں کی ملکیت رہی۔

ملکہ کوہسار مری

ملکہ کوہسار مری پاکستان کے شمال میں ایک مشہور اور خوبصورت سیاحتی تفریحی مقام ہے۔ مری شہر دارالحکومت اسلام آباد سے صرف ایک گھنٹے کی مسافت پر واقع ہے۔

مری کا سفر سرسبز پہاڑوں، گھنے جنگلات اور دوڑتے رقص کرتے بادلوں کے حسین نظاروں سے بھرپور ہے۔ گرمیوں میں سرسبز اور سردیوں میں سفید رہنے والے مری کے پہاڑ سیاحوں کے لیے بے پناہ کشش کا باعث ہیں۔

مری سطح سمندر سے تقریباً 2300 میٹر یعنی 8000 فٹ کی بلندی پرواقع ہے۔ مری کی بنیاد سنہ 1851 میں رکھی گئی تھی اور یہ برطانوی حکومت کا گرمائی صدر مقام بھی رہا۔

ایک عظیم الشان چرچ شہر کے مرکز کی نشاندہی کرتا ہے، چرچ کے ساتھ سے شہر کی مرکزی سڑک گزرتی ہے جسے مال روڈ کہا جاتا ہے۔

جھیل سیف الملوک

پاکستان کے صوبوں خیبر پختونخواہ اور گلگت بلتسان میں قدرتی حسن جابجا بکھرا پڑا ہے۔ جھیل سیف الملکوک بھی ان ہی میں سے ایک ہے۔ جھیل سیف الملوک وادی کاغان کے علاقے ناران میں 10 ہزار 578 فٹ کی بلندی پر واقع ہے اور اس کا شمار دنیا کی حسین ترین جھیلوں میں ہوتا ہے۔

ناران سے بذریعہ جیپ یا پیدل یہاں تک پہنچا جا سکتا ہے۔ صبح کے وقت ملکہ پربت اور دوسرے پہاڑوں کا عکس اس میں پڑتا ہے۔ سال کے کچھ مہینے اس کی سطح برف سے جمی رہتی ہے۔

اس جھیل سے انتہائی دلچسپ لوک کہانیاں بھی منسوب ہیں جو یہاں موجود افراد کچھ روپے لے کر سناتے ہیں۔ اگر آپ جھیل سے منسوب سب سے دلچسپ کہانی سننا چاہتے ہیں تو جھیل پر کالے خان نامی نوے سالہ بزرگ کو تلاش کیجیئے گا۔

دیوسائی

دیوسائی نیشنل پارک سطح سمندر سے 13 ہزار 500 فٹ اونچائی پر واقع ہے۔ یہ پارک 3 ہزار مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے۔ نومبر سے مئی تک پارک برف سے ڈھکا رہتا ہے۔ بہار کے موسم میں پارک پھولوں اور کئی اقسام کی تتلیوں کے ساتھ ایک منفرد نظارہ پیش کرتا ہے۔

دیوسائی دو الفاظ کا مجموعہ ہے۔ دیو اور سائی یعنی دیو کا سایہ۔ ایک ایسی جگہ، جس کے بارے میں صدیوں یہ یقین کیا جاتا رہا کہ یہاں دیو بستے ہیں، آج بھی مقامی لوگوں کا یہ ماننا ہے کہ یہ حسین میدان مافوق الفطرت مخلوق کا مسکن ہے۔

یہاں دیکھتے ہی دیکھتے موسم خراب ہونے لگتا ہے، کبھی گرمیوں میں اچانک شدید ژالہ باری ہونے لگتی ہے۔ ہر لمحہ بدلتے موسم کی وجہ سے دیوسائی میں دھوپ چھاؤں کا کھیل بھی جاری رہتا ہے۔

یہ علاقہ جنگلی حیات سے معمور ہونے کی وجہ سے انسان کے لیے ناقابل عبور رہا۔ برفانی اور یخ بستہ ہواﺅں، طوفانوں اور خوفناک جنگلی جانوروں کی موجودگی میں یہاں زندگی گزارنے کا تصور تو اس ترقی یافتہ دور میں بھی ممکن نہیں۔ اسی لیے آج تک اس خطے میں کوئی بھی انسان آباد نہیں۔

شنگریلا

شنگریلا گلگت بلتستان کے ضلع اسکردو میں قراقرم کے فلک شگاف پہاڑوں سے گھرا ہوا ایک دلکش اور دل لبھانے والا سیاحتی مقام ہے۔ یہاں سارا مقامی و غیر ملک سیاحوں کی آمد جاری رہتی ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں