The news is by your side.

Advertisement

ترجمہ نگاری: وہ دریچہ جس سے دوسری تہذیب اور اقوام کا احوال ہم پر کھلتا ہے

ترجمہ نگاری اور مختلف تحریری مواد کو اس کی اہمیت اور افادیت کے پیشِ نظر ایک سے دوسری زبان میں ترجمہ کر کے مطالعہ کے لیے پیش کرنے کا سلسلہ قدیم زمانے سے چلا آرہا ہے۔ دنیا کی تمام زبانوں کا علمی و ادبی سرمایہ اپنے وقت کے مختلف زبانوں‌ پر عبور رکھنے والے مصنّفین، ماہرِ علوم اور مترجمین کی بدولت ہی ہم تک پہنچا ہے۔

آج تراجم کا عالمی دن منایا جارہا ہے۔ اس دن کو منانے کا مقصد مترجمین کی حوصلہ افزائی کرنا ہے جو اقوام متحدہ کے تحت ہر سال منایا جاتا ہے۔ مترجمین اپنی محنت سے ایک تحریر کو کسی دوسری زبان کے قالب میں منتقل کرکے ہماری فکری و نظریاتی تربیت، علم و ادب کی تسکین کے ساتھ معلومات کا خزانہ ہمارے سامنے رکھ دیتے ہیں۔

یہ مترجمین کی جہدوجہد اور محنت ہی ہے جس کی وجہ سے مذہب، سائنس، فلسفہ، تاریخ، سوانح اور عالمی ادب ہماری زبان میں منتقل ہو کر ہم تک پہنچا اور ہم اس سے مستفید ہو رہے ہیں۔

ٹرانسلیشن، لاطینی زبان کا لفظ ہے جس کا ایک معنٰی منتقلی یا ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانا یا پار لے جانا ہے۔ اردو زبان میں ہمارے مختلف عہد کے ادیبوں اور مصنّفین نے ہر قسم کی کتابوں کا انگریزی، فرانسیسی، ہندی، بنگلہ، روسی، اور دیگر کئی زبانوں کے ساتھ علاقائی زبانوں میں بھی ترجمہ کیا ہے یہ ایک نہایت مشکل اور پیچیدہ فن ہے۔

مترجمین علم و ادب کے ساتھ تفریحی، سائنس و طب کے موضوعات اور ایسی قدیم اور صدیوں پرانی کتابوں کو بھی اردو اور دیگر زبانوں میں منتقل کرتے رہے ہیں جن کی بدولت آج ہم نے شعور و آگاہی کے مراحل طے کرنے کے علاوہ ان کی معلومات سے ترقّی کے مدارج بھی طے کیے ہیں۔

ڈاکٹر جمیل جالبی لکھتے ہیں، “ترجمہ کرنا یقیناً ایک مشکل کام ہے، اس میں مترجم، مصنّف کی شخصیت فکر و اسلوب سے بندھا ہوتا ہے، ایک طرف اس زبان کا کلچر جس کا ترجمہ کیا جا رہا ہے، اسے اپنی طرف کھینچتا ہے اور دوسری طرف اس زبان کا کلچر جس میں ترجمہ کیا جا رہا ہے، یہ دوئی مترجم کی شخصیت کو توڑ دیتی ہے۔”

ترجمہ کا فن کسی بھی دوسرے تخلیقی کام سے زیادہ مشکل اور پیچیدہ ہے کیوں کہ ایک خیال کو تخلیق کا جامہ پہنانے والا شاید اتنا نہیں سوچتا جتنا کہ کسی ایک زبان سے دوسری زبان میں اس تخلیق کو منتقل کرنے والا سوچتا ہے۔

ایک اچھا اور کامیاب ترجمہ وہی ہے جو معنیٰ و مفہوم اور خیال میں اپنے اصل سے قریب ہو، اگر ترجمہ مفہوم اور تاثیر میں آگے بڑھ جاتا ہے یا پیچھے رہ جاتا ہے تو یہ دونوں خامیاں ہیں۔ یقینا بہترین اور اصل سے قریب تر ترجمہ کرنا انتہائی مشکل کام ہے۔

ڈاکٹر رشید امجد لکھتے ہیں۔
“ترجمہ نگاری ایسا دریچہ ہے جس سے دوسری اقوام کے احوال ہم پر کھلتے ہیں۔”

ترجمہ نگاری کو ایک فن کا درجہ حاصل ہے جب کہ مترجم کو دو زبانوں اور دو اقوام کے درمیان لسانی اور ثقافتی سفیر کا نام دیا گیا ہے۔

ترجمہ گویا انسانی تمدن، مزاج اور تاریخ کی دریافت اور شناخت کا بھرپور ذریعہ ہے۔ یہ فن بدیسی، رنگ، زبان، جغرافیائی اور سیاسی تفرقات کے باوجود بھی ایک اجنبی کو آشنائی کی منازل طے کروا دیتا ہے۔

پاکستان جیسے کثیر لسانی ملک میں علوم ترجمہ اور ترجمہ نگاری کا فروغ لازمی ہے۔ یہاں جامعات کی سطح پر دارُ الترجمہ قائم ہیں اور ان کی تعداد بڑھانے کی ضرورت ہے جہاں سے تراجم کا باضابطہ اور مربوط اہتمام کیا جاسکتا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں