The news is by your side.

Advertisement

جنگِ عظیم دوم اور برلن کی دیوار

جنگِ عظیم دوم کے اختتام پر شکست سے دوچار جرمنی کو چار اتحادی فاتح ملکوں یعنی امریکا، برطانیہ، فرانس اور روس نے ایک معاہدے کے تحت چار حصوں میں بانٹ لیا تھا۔

برلن جو جرمنی کا دارالخلافہ تھا، اسے بھی چار سیکٹروں میں بانٹ دیا گیا۔ اس بندر بانٹ کے بعد دو سال کے اندر اتحادی بکھر گئے اور ان کی قوت پارہ پارہ ہو گئی جب کہ روس اپنا حصہ لے کر علیحدہ ہو گیا۔

اِدھر امریکا، برطانیہ، فرانس اور قریبی ہالینڈ، بیلجیئم اور لکسمبرگ نے ایک منصوبے کے ذریعے باقی تین حصوں کو ملا کر مغربی جرمنی کی تشکیل کا راستہ ہموار کر دیا۔ مغربی برلن بھی اسی منصوبے کے تحت مغربی جرمنی کی حدود میں آ گیا۔

مشرقی جرمنی کے تسلط سے آزادی پانے کے خواہش مند باشندوں نے موقع غنیمت جانا اور اور سرحد پار کر کے مغربی برلن میں داخل ہوگئے، جہاں سے بلا روک ٹوک وہ مغربی جرمنی جا سکتے تھے۔

یہ صورت حال دیکھ کر روسی ڈکٹیٹر جوزف اسٹالن نے مغربی برلن کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا اور وہاں ہر قسم کی آمدورفت اور سامان کی رسد اور ترسیل کو روک دیا۔ اس پر مغربی طاقتوں نے اہلِ شہر کو ضروریاتِ زندگی کی فراہمی کے لیے برلن ائر لفٹ کا پروگرام بنایا اور یوں روسی بائیکاٹ بے معنی ہو گیا۔

قدرتی وسائل، اسباب کی لوٹ مار، انسانی المیے اور جبر، طاقت کا بے دریغ اور وحشیانہ استعمال ہی نہیں دیوارِ برلن بھی جنگِ عظیم کے بعد بندر بانٹ اور اس وقت کی عالمی طاقتوں کے بالادستی کے جنون کی ایک مثال کہی جاسکتی ہے جسے بعد میں گرانا پڑا اور جرمنی متحد ہوا۔

(جنگِ عظیم دوم اور مختلف خطوں پر اس کے اثرات سے ورق)

Comments

یہ بھی پڑھیں