The news is by your side.

Advertisement

آب گاہوں کا عالمی دن: کلائمٹ چینج سے آب گاہیں بھی خطرے میں

دنیا بھر میں آج آب گاہوں یعنی میٹھے پانی کے ذخائر کا عالمی دن منایا جارہا ہے۔ یہ دن سنہ 1971 میں کیے جانے والے ایک معاہدے (رامسر کنونشن) کی یاد میں ہر سال 2 فروری کو منایا جاتا ہے۔

رواں برس یہ دن آب گاہیں اور موسمیاتی تغیر (کلائمٹ چینج) کے عنوان سے منایا جارہا ہے۔

ماہرین ماحولیات کے مطابق آب گاہوں کی اصطلاح بہت وسیع معنوں کی حامل ہے۔ اس میں جھیلیں، دلدل، ساحلی علاقے، جوہڑ، قدرتی ندی نالے، دریا اور ڈیلٹا شامل ہیں۔

ان آب گاہوں کا ایک اپنا مکمل ماحولیاتی نظام ہوتا ہے جس میں مختلف اقسام کے جان دار زندہ رہنے کے لیے ایک دوسرے پر انحصار کرتے ہیں۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ آب گاہیں دراصل زندگی کی پناہ گاہیں ہیں۔

کینجھر جھیل

آب گاہوں کے حوالے سے پاکستان عالمی سطح پر اس وقت پہچانا گیا جب 1976 میں پاکستان نے رامسر کنونشن پر دستخط کیے۔ یہ کنونشن ایران کے شہر رامسر میں 1971 میں تشکیل پایا۔

یہ ایک عالمی سطح کا معاہدہ ہے جس کے تحت آب گاہوں کے تحفظ کے لیے کوششیں اور وسائل مہیا کیے جاتے ہیں۔

رامسر کنونشن کے تحت عالمی سطح پر ایسی آب گاہوں کی فہرست تیار کی گئی ہے جو متعینہ معیار کے مطابق عالمی اہمیت کی حامل ہیں تاکہ ان آب گاہوں کی حفاظت کے لیے ترجیحی بنیادوں پر منصوبے بنائے جائیں۔

اس معاہدے پر دستخط کرنے والے ممالک کو تین عہد ایفا کرنے ہوتے ہیں۔

1: عالمی اہمیت کی آب گاہوں کو رامسر فہرست میں شامل کروانا۔ 2: تمام آب گاہوں کے دانش مندانہ استعمال کے لیے منصوبہ بندی کرنا۔ 3: انواع اور پانی کے مشترکہ نظام کے لیے بین الاقوامی سطح پر تعاون کرنا۔

ہالیجی جھیل

جب پاکستان نے اس معاہدے پر دستخط کیے تو ہمارے ملک کی آب گاہوں کا مجموعی رقبہ تقریبا 7 ہزار 8 سو کلو میٹر تھا اور یہاں عالمی معیار کی 8 آب گاہیں تھیں لیکن اب پاکستان میں بین الاقوامی اہمیت کی حامل آب گاہوں یعنی رامسر سائٹس کی تعداد 19 ہوگئی ہے۔

ان سائٹس میں بلوچستان کا استولا آئی لینڈ، چشمہ بیراج، ہالیجی جھیل، حب ڈیم، انڈس ڈیلٹا، جیوانی، کینجھر جھیل، میانی ہور اور ارماڑا کا ساحل شامل ہیں۔

ماہرین کے مطابق کلائمٹ چینج کی وجہ سے آب گاہیں بھی خطرے کا شکار ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق کلائمٹ چینج کی وجہ سے آب گاہیں جنگلات سے 3 گنا زیادہ تیزی سے سکڑ رہی ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں