جنگلی حیات کا عالمی دن: ’بڑی بلیاں‘ خطرے کا شکار -
The news is by your side.

Advertisement

جنگلی حیات کا عالمی دن: ’بڑی بلیاں‘ خطرے کا شکار

آپ نے بچپن میں پڑھا ہوگا بلی شیر کی خالہ ہے۔ لیکن کیا واقعی بلی اور شیر کا آپس میں کوئی رشتہ ہے؟

بلی یوں تو جسامت میں چھوٹی ہے لیکن بڑے بڑے ببر شیر، چیتے، تیندوے وغیرہ بلی کی نسل سے ہی ہیں جنہیں بڑی بلیاں کہا جاتا ہے۔ آج جنگلی حیات کے عالمی دن کا موضوع انہی بڑی بلیوں کے تحفظ اور بچاؤ کا شعور اجاگر کرنا ہے۔

یہ دن منانے کی قرارداد سنہ 2013 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے منظور کی تھی۔ رواں سال کا موضوع بڑی بلیوں کو بچانا ہے جس میں شیر کی 5 اقسام شیر، ببر شیر، چیتے، تیندوے اور جیگوار شامل ہیں۔ اس فہرست میں برفانی چیتا بھی شامل ہے اگرچہ کہ یہ دھاڑنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔

بڑی بلیوں کی بقا کو لاحق سب سے بڑا خطرہ ان کے مساکن (رہنے کی جگہ) میں کمی واقع ہونا ہے۔ بڑی بلیاں گھنے جنگلات میں رہتی ہیں لیکن دنیا بھر میں جنگلات کی بے دریغ کٹائی ہورہی ہے جس سے شیروں کی بڑی تعداد چھدرے جنگلات یا میدانوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔

کھلی جگہوں پر رہنے سے ان کے باآسانی شکار ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے جس کی وجہ سے بڑی بلیوں کی تعداد میں تیزی سے کمی واقع ہورہی ہے۔

عالمی ادارہ برائے جنگلی حیات کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں پائی جانے والی بڑی بلیوں کی صرف 13 فیصد تعداد محفوظ مقامات پر رہائش پذیر ہے۔ بقیہ تعداد نہایت غیر محفوظ علاقوں میں ہے جہاں باآسانی ان کا شکار کیا جاسکتا ہے۔

ایک تحقیق کے مطابق دنیا بھر میں اس وقت صرف 3 ہزار 8 سو 90 چیتے موجود ہیں۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے ماحولیات اور جنگلی حیات کی بہبود کے لیے کام کرنے والے مختلف اداروں کا کہنا ہے کہ اگر بڑی بلیوں کے تحفظ کے لیے ہنگامی اقدامات نہ اٹھائے گئے تو بہت جلد یہ ہماری زمین سے معدوم ہوسکتے ہیں۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں