The news is by your side.

Advertisement

جنگلی حیات کا عالمی دن: سمندر ہماری بقا کا سب سے اہم ذریعہ ہیں

استولا نامی جزیرہ پاکستان میں پہلا مقام ہے جسے آبی حیات کے لیے محفوظ قرار دیا گیا ہے

آج پاکستان سمیت دنیابھر میں جنگلی حیات کے تحفظ کا عالمی دن منایا جارہا ہے ، اس سال اس دن کا عنوان ’زیر آب حیات :برائے عوام اور نبادات‘ تجویز کیا گیا ہے۔

جنگلی حیات کا عالمی دن منانے کی قرارداد سنہ 2013 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے منظور کی تھی۔ اس دن کو منانے کا مقصد معدومی کے خطرے کا شکار جاندار اور نبادات کوتحفظ فراہم کرنا ہے۔

ا س سال رکھا گیا عنوان سنہ 2014 میں طے کیے گئے ’پائیدار ترقی کے اہداف‘ سے ہم آہنگ ہے اور دنیا کو آبی حیات کی اہمیت سے روشناس کرانے کا موقع دیتا ہے۔ اس حوالے سے کئی ابتدائی اقدامات کیے جاچکے ہیں اور ابھی بہت سے اقدامات مستقبل میں کیےجائیں گے۔

اقوامِ متحدہ کے نائب سیکرٹری جنرل ابدولائے مار دائیے کا کہنا ہے کہ سمندر ہمارے موسم کا نظم و ضبط برقرار رکھتے ہیں، انسانی ضرورت کی نصب آکسیجن سمندر ہی پیدا کرتے ہیں، ایک بڑی آبادی کی غذائی ضروریات سمندروں سے وابستہ ہیں اور یہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کا 30 فیصد جذب کرلیتے ہیں۔ موسمی تغیر سے پیدا ہونے والی 90 فیصد گرمی سمندر جذب کرتے ہیں۔

اس لیے ان سمندروں اوران میں موجود حیا ت کی بقا بےحد ضروری ہے۔ ہمیں ان کے تحفظ کے لیے قدرتی طرز کے اقدامات کرنا ہوں گے اور اس میں حکومتوں، نجی شعبہ جات اور عوام سب کو اپنا حصہ ڈالنا ہوگا۔

اسی حوالے سے ڈیوڈ مورگن جو کہ اقوام متحدہ کے سائٹس نامی ذیلی ادارے کے آفیسر انچارج ہیں ، ان کا کہنا ہے کہ وہیل ، سمندری کچھوے، دریائی گھوڑےکی تمام اقسام، گھونگھوں کی کئی اقسام اور شارک کی زیادہ سے زیادہ نسلوں کو معدومی کے خطرے کا شکار جانداروں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں فشریز کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ آبی حیات کے شکار میں اعتدال کو مرکوز ِ خاطر رکھا جاسکے۔

پاکستان کیونکہ پائیدار ترقی کے اہداف یعنی ایس ڈی جی کا دستخط کنندہ ہے ، لہذا سمندروں اور آبی حیات کے تحفظ کے سلسلےمیں پیش رفت کرتےہوئے بلوچستان کی حکومت نے ضلع گوادر کے ساحل سے 40 کلومیٹر دور واقع جزیرے استولا کو سمندری حیات کے لیے محفوظ علاقہ قرار دے دیا ہے‘ یہ پاکستان کا پہلا ایسا علاقہ ہے جسے یہ درجہ دیا گیا ہے۔

استولا ۔۔ ہفت تالار

اس جزیرے کی کل لمبائی ساڑھے تین کلومیٹر اور چوڑائی ڈیڑھ کلومیٹر ہے اور یہ سمندری علاقہ نہ صرف ماہی گیری کے حوالے سے بہت زیادہ زرخیز ہے بلکہ استولا کا جزیرہ سردیوں میں روس اور دنیا کے دیگر ممالک سے آنے والے پرندوں کا مسکن بھی بنتا ہے جو یہاں آ کر انڈے دیتے ہیں۔

ادارے کے مطابق یہاں ملنے والی کئی آبی حیات اور نباتات پاکستان کے دیگر علاقہ جات تو کیا کسی دوسرے ملک میں بھی نہیں ملتیں۔

صرف اس جزیرے پر پائے جانے والے جانداروں میں سن وائپر نامی زہریلا سانپ اہم ہے۔ اس کے علاوہ یہاں گریٹر کرسٹیڈ نامی پرندہ ہزاروں کی تعداد میں موجود ہے جبکہ دنیا کے دیگر علاقوں میں ان کی تعداد بہت کم ہو چکی ہے۔

گزشتہ سال اس دن کا موضوع’بڑی بلیوں کو بچانا ہے‘ طے کیا گیا تھا ، اس خاندان سے تعلق رکھنے والے5 اقسام کے شیر ، ببر شیر، چیتے، تیندوے اور جیگوار معدومی کا شکار جانوروں کی فہرست میں شامل ہیں۔ اس فہرست میں برفانی چیتا بھی شامل ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں