The news is by your side.

Advertisement

فلسطینیوں کی جدوجہد کا استعارہ ۔ دنیا کی سب سے بڑی چابی

فلسطین کے لوگوں نے دنیا کی سب سے بڑی چابی تخلیق کر کے دنیا کو پیغام دیا ہے کہ وہ اپنے بند گھروں کی چابیاں سنبھالے تاحال اپنے گھروں کو واپسی کے منتظر ہیں۔

سنہ 1948 میں جب فلسطین پر غاصبانہ قصبہ کر کے اسے اسرائیلی ریاست قرار دیا گیا تب وہاں رہنے والے فلسطینی اپنے گھروں سے جبراً بے دخل کردیے گئے۔

یہ فلسطینی اپنے گھروں کو بند کر کے ان کی چابیاں سنبھالے اس امید پر وہاں سے چل دیے کہ بہت جلد انہیں ان کا گھر واپس مل جائے گا۔ لیکن 79 طویل سال گزر جانے کے بعد یہ آج بھی دربدری کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

جبراً جلا وطنی کی اس طویل زندگی میں چابی ان فلسطینیوں کے لیے ایک علامت کی صورت اختیار کر گئی جسے ہر احتجاج کے موقع پر وہ ہاتھ میں اٹھائے دنیا کو بتانے کی کوشش کرتے ہیں کہ ان سے ان کا گھر چھن گیا ہے۔

اب اس استعارے کو مزید وسیع پیمانے پر دنیا کے سامنے لانے کے لیے فلسطینیوں نے ایک طویل القامت چابی تیار کرلی ہے جسے دنیا کی سب سے بڑی چابی ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔

پچیس فٹ طویل اس چابی کو قطر میں ایک فلسطینی ریستوران کے سامنے نصب کیا گیا ہے۔

اسے بنانے والے فلسطینی نوجوانوں کا کہنا ہے کہ یہ چابی دنیا کو متوجہ کرنے کی کوشش ہے کہ کس طرح ہماری ایک نسل اپنے گھروں کو واپسی کی راہ تکتے تکتے اس دنیا سے چلی گئی اور اب یہ انتظار دوسری نسل کے حصے میں آگیا۔

نوجوانوں کا عزم ہے کہ وہ اپنے گھر واپسی کا خواب دیکھنا کبھی نہیں چھوڑیں گے اور انہیں یقین ہے کہ یہ خواب ایک دن ضرور پورا ہوگا۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں