The news is by your side.

Advertisement

شمسی پینلز والی سڑک سے بجلی پیدا کرنے کا منصوبہ ناکام کیوں ہوا؟

جس وقت اس سڑک کو سورج سے توانائی حاصل کرکے بجلی بنانی ہے، ایسے وقت میں یہ سڑک ٹریفک سے بھری ہوتی ہے

پیرس: فرانس میں 2 سال قبل دنیا کی پہلی سولر ہائی وے کا افتتاح کیا گیا تھا اور ماہرین کو امید تھی کہ یہ سڑک توانائی کے ذرائع میں اہم اضافہ ثابت ہوگی، تاہم اب اسے ایک ناکام ترین منصوبہ قرار دیا جارہا ہے۔

2 ہزار 800 اسکوائر میٹر پر محیط یہ سڑک دسمبر 2016 میں تیار کی گئی تھی۔ اس منصوبے کو ایک ٹرائل کہا جارہا تھا اور ماہرین کا خیال تھا کہ اگر یہ منصوبہ کامیاب ہوجاتا ہے تو سڑکوں سے بجلی بنانے کا کام بڑے پیمانے پر شروع کردیا جائے گا۔

تاہم اب 2 سال بعد سامنے آنے والی رپورٹ کے مطابق توقع کے برعکس نہ تو یہ سڑک منافع بخش ثابت ہوئی اور نہ ہی مؤثر، اور 2 سال بعد مکمل طور پر ناکام قرار دی جارہی ہے۔

سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ اب یہ سڑک ٹوٹ پھوٹ چکی ہے اور اس کی مرمت بھی نہیں کی جاسکتی۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ سڑک پر نصب کئی شمسی پینلز اپنی جگہ سے ڈھیلے ہوگئے اور اسی وجہ سے ٹوٹ بھی گئے۔ اس سڑک سے یومیہ بنیادوں پر 790 کلو واٹ بجلی پیدا ہونے کا اندازہ لگایا گیا تھا، تاہم یہ صرف اس کے نصف ہی بجلی پیدا کرسکی۔

بجلی پیدا کرنے کا یہ اندازہ اس بنیاد پر لگایا گیا تھا کہ اگر یہ منصوبہ کامیاب ہو تو مستقبل میں اس سڑک کے آس پاس بسنے والے افراد کی بجلی کی ضروریات یہیں سے پوری کی جاسکیں۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ یہ سڑک بہت پر شور بھی ثابت ہوئی جس کی وجہ سے یہاں پابندی عائد کرنی پڑی کہ اس سڑک پر صرف 70 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گاڑی چلائی جائے۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ امریکا میں بنائی جانے والی اسی طرز کی سڑک کا بھی یہی حال ہوا، البتہ نیدر لینڈز میں بنائی گئی ایسی سڑک کامیاب منصوبہ قرار دی گئی۔ نیدر لینڈز میں یہ سڑک سائیکلوں کے لیے بنائی گئی تھی اور اس سڑک سے توقعات سے زیادہ بجلی حاصل کی گئی۔

اس منصوبے کی ناکامی کی وجوہات اور عوامل کے بارے میں تفصیلی غور کیا جارہا ہے، تاہم ابتدائی طور پر ماہرین کا اندازہ ہے کہ شمسی پینلز کو سورج سے توانائی حاصل کرنی ضروری ہے لیکن ایسے وقت میں یہ سڑک ٹریفک سے بھری ہوتی ہے، ممکن ہے کہ یہی وجہ اس سڑک کی ناکامی کا سبب بنی ہو۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں