The news is by your side.

Advertisement

سائنس کا نیا کارنامہ، 465 دنوں تک قائم رہنے والا بلبلہ

سائنس دانوں نے ایک عجیب و غریب کارنامہ انجام دیا ہے، فرانسیسی سائنس دانوں نے ایک ایسا پائیدار ترین بلبلہ بنا لیا ہے جو زیادہ سے زیادہ 465 دنوں تک قائم رہ سکتا ہے، اور نہیں ٹوٹتا۔

تفصیلات کے مطابق گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈز کے لیے یونیورسٹی آف لِل کے محققین نے دنیا کا سب سے طویل عرصے تک برقرار والا بلبلہ بنایا ہے، جس نے اپنی شکل 465 دنوں تک برقرار رکھی۔

یہ صابن کے عام بلبلوں کے مقابلے میں 2 لاکھ گنا زیادہ طویل وقت کے لیے برقرار رہ سکتا ہے، جو کہ عام طور پر صرف چند سیکنڈز یا زیادہ سے زیادہ چند منٹوں کے لیے سلامت رہتے ہیں اور پھر پھٹ جاتے ہیں۔

فرانس کی یونیورسٹی آف لِل کی ٹیم کا تیار کردہ یہ خاص قسم کا بلبلہ ‘گیس ماربل’ کہلاتا ہے، اس کا خول تہہ دار ہے اور اسے مضبوط بنانے کے لیے اس کی سطح پر پلاسٹک کے نہایت چھوٹے دانوں کی تہہ چڑھائی گئی ہے، یہ ریسرچ اسٹڈی ماہر طبیعیات ایمریک روکس اور ان کے ساتھیوں نے کی۔

ٹیم نے اپنے مقالے میں لکھا ‘صابن کے بلبلے بنیادی طور پر نازک اور عارضی ہوتے ہیں۔ عام بلبلے کا پھٹنا دراصل ان کی ساخت اور ماحول پر منحصر ہوتا ہے، یہ کشش ثقل کی وجہ سے اس کے اندر سے پانی کے اخراج یا اس میں موجود مائع کے بخارات بن جانے سے یا مرکزے کی موجودگی کی وجہ سے پھٹ سکتا ہے۔

ٹیم کے مطابق بلبلے بیرونی ماحول میں اندر موجود گیس کے پھیلاؤ کی وجہ سے بھی سکڑ سکتے ہیں، جو لاپلاس (Laplace) کے زیادہ دباؤ کی وجہ سے متاثر ہوتی ہے، لہٰذا انھوں نے ایک مرکب لکوئڈ فلم سے بنے بلبلوں کو ڈیزائن کیا، جو ان تمام اثرات کو بے اثر کر سکتے ہیں، اور ایک معیاری ماحول میں ایک سال سے زیادہ عرصے تک اپنی سالمیت کو برقرار رکھ سکتے ہیں۔

گیس ماربل ایک غیر معمولی قسم کا بلبلہ ہے جو بنایا تو مائع محلول سے ہی ہے، لیکن اس میں پلاسٹک کے چھوٹے دانے بھی ہوتے ہیں، جو بلبلے کے خول پر ایک تہہ کی صورت میں شامل رہتے ہیں، اور اسے اتنا مضبوط بناتے ہیں کہ اسے آپ ہاتھ میں بھی پکڑ سکتے ہیں، اور کسی سطح پر اسے ہاتھ سے گھما بھی سکتے ہیں اور یہ نہیں ٹوٹتا۔

اگرچہ اس سے قبل بھی تحقیق میں گیس ماربلز کی مکینیکل خصوصیات کی کھوج کی گئی تھی، تاہم روکس اور ان کے ساتھیوں کا مطالعہ بلبلے کی زیادہ سے زیادہ پائیداری کو دریافت کرنے والا پہلا مطالعہ ہے۔ طویل وقت تک برقرار رہنے والا بلبلہ بنانے کے تجربات میں اس ٹیم نے تین مختلف اقسام کے بلبلوں کا موازنہ کیا، ان میں صابن کے عام بلبلے، پانی پر مبنی گیس ماربل، اور پانی اور گلیسرول دونوں کے امتزاج سے بنے بلبلے شامل تھے۔

محققین نے گلیسرول ملے پانی کی سطح پر پلاسٹک کے ذرات پھیلا کر گیس ماربل بنائے، تاکہ ایک دانے دار تختہ بن سکے۔ اس کے بعد انھوں نے ایک بلبلہ بنانے کے لیے اس تختے کے نیچے ہوا کا انجیکشن لگایا، جس کی وجہ سے وہ دانے دار تختے پر گھوما اور وہاں سے پلاسٹک کے دانے چپکے، اور اس طرح گیس ماربل کی سطح پر اس کی ایک تہہ چڑھ گئی۔

ان اجزا کے بعد بنائے جانے والے بلبلے میں یہ بہتری آئی کہ جن میں سے کچھ کم از کم 100 دن تک بغیر پھٹے موجود رہے جب کہ ان میں سب سے لچک دار 465 دن تک نہیں پھٹا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں