The news is by your side.

Advertisement

بھارت میں مسلمان نوجوان پر بدترین تشدد، افسوسناک ویڈیو وائرل

نئی دہلی : بھارت میں ہندو انتہا پسندوں نے گائے کی حفاظت کے نام پر مسلمان نوجوان کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنا ڈالا، پولیس نے ملزمان کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے متاثرہ نوجوان کو گرفتار کرلیا۔

نریندر مودی کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے بھارت میں مسلم کشی اور ہندو انتہا پسندی کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہوا جو تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہا، مسلمان پر تشدد کا تازہ واقعہ بھارتی کی ریاست اتر پردیش میں رونما ہوا جہاں خود کو گئو رکشک (گائے کے محافظ) کہنے والے گروہ نے گوشت کی سپلائی کرنے پر نوجوان کو بری طرح پیٹ ڈالا۔

اترپردیش کے شہر مراد آباد میں محمد شاکر نامی نوجوان گوشت کی سپلائی کا کام کرتا ہے اور حادثے کے وقت بھی موٹر سائیکل پر گوشت سپلائی کرنے جارہا تھا جس کی رسید بھی موجود تھی اس کے باوجود رستے میں ایک گروہ نے شاکر کو روکا اور بدترین تشدد کا نشانہ بنانے لگے۔

متاثرہ نوجوان نے بتایا کہ انتہا پسند گروہ خود کو گئو رکشک یعنی گائے کا محافظ کہہ رہا تھا۔

محمد شاکر کے بھائی نے واقعے کا مقدمہ تھانے میں درج کرایا لیکن پولیس کی جانب سے ملزمان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی الٹا پولیس نے ملزمان کے کہنے پر محمد شاکر کے خلاف کرونا لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی کرنے، کرونا انفیکشن پھیلنے کا باعث بننے اور جانوروں کو مارنے کے من گھرٹ الزامات لگاکر جھوٹا مقدمہ درج کرلیا۔

پولیس نے گروہ کی سربراہی کرنے والے منوج ٹھاکر کو گرفتار کرنے کے بجائے محمد شاکر کو گرفتار کرلیا تاہم فی الحال اسے جیل نہیں بھیجا گیا کیوں کہ شاکر کے خلاف لگائی گئیں دفعات قابل ضمانت ہیں۔

دوسری جانب پولیس کو تحریری شکایت میں شاکر کے بھائی کا کہنا تھا کہ جب وہ ایک اسکوٹر پر بھینس کا 50 کلو گوشت لا رہا تھا تو منوج ٹھاکر اور اس کے ساتھیوں نے اسے گھیر لیا اور شاکر سے 50000 روپے کا مطالبہ کرنے لگے، جس کے بعد انہوں نے اس کی بری طرح پٹائی کرڈالی۔

خیال رہے کہ مسلمانوں پر تشدد کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں بلکہ کچھ روز قبل بھارتی ریاست بہار کے ضلع کیمور میں ہندو توا کے شرپسندوں نے ساٹھ سالہ مسلمان بزرگ کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں