بدھ, اپریل 15, 2026
اشتہار

علّامہ اقبال کا ایک سکھ پرستار جس نے اپنے بیٹے کا نام اقبال سنگھ رکھا

اشتہار

حیرت انگیز

ایک مرتبہ لاہور میں آل انڈیا سکھ ایجوکیشنل کانفرنس کا اجلاس ہوا جس میں دور دور سے سکھ حضرات شامل ہوئے۔

ایک دن میں علّامہ کی خدمت میں حاضر تھا کہ کچھ سکھ حضرات علاّمہ سے ملنے کے لیے آئے۔ ان میں ڈاکٹر پورن سنگھ، پروفیسر کشمیرا سنگھ، بھائی ٹھاکر سنگھ اور سردار جوگندر سنگھ بھی تھے۔ علّامہ ان تمام حضرات سے بہت اچھی طرح پیش آئے اور بے تکلفی سے گفتگو کرتے رہے۔ سردار جوگندر سنگھ علّامہ کا شیدائی تھا اور علّامہ اسے بے تکلفی سے "جوگی جی” کہہ کر مخاطب کیا کرتے تھے۔ ڈاکٹر پورن سنگھ نے بتایا کہ میں نے ایک کتاب لکھی ہے جس میں آپ کا ذکر بھی کیا ہے۔ اس کا نام "دی اسپرٹ آف دی اورینٹل پوئٹری” ہے۔ پھر علامہ نے بطور خاص سردار جوگندر سنگھ کی خیریت دریافت کی اور نہایت اپنائیت سے اس سے باتیں کرتے رہے۔ جیسا کہ ذکر ہوا، سردار جوگندر سنگھ، علّامہ کے پرستاروں میں سے تھا۔ اس نے اپنے بیٹے کا نام بھی علّامہ کے نام پر اقبال سنگھ رکھا تھا اور اس کے گاؤں کا نام اقبال نگر تھا۔ علّامہ کی وفات پر سردار جوگندر سنگھ نے سول اینڈ ملٹری گزٹ میں ایک مضمون بھی لکھا تھا جس کے ایک ایک لفظ سے عقیدت و محبت کا اظہار ہوتا ہے۔

رياض الکریم نامی ایک شخص کانگریسی نقطۂ نظر کا حامی تھا۔ اس نے انگریزی زبان میں ایک کتاب لکھی تھی جس کا نام "فار انڈیا اینڈ اسلام” تھا۔ اور اس میں ایک باب "اقبال کے نام کھلا خط” کے عنوان سے شامل تھا۔ اس میں علّامہ کی معروف نظم چین و عرب ہمارا کا حوالہ دے کر متحدہ ہندوستان اور کانگریسی نقطۂ نظر کی ترجمانی کی گئی تھی اور علامہ پر بھی تنقید تھی۔ یہ کتاب عباس طیب جی اور ڈاکٹر انصاری کے نام معنون تھی۔ مگر علامہ اقبال نے اس کتاب یا اس کے مصنف کا کبھی ذکر تک نہ کیا اور نہ ہی انھوں نے اپنے سیاسی نظریات پر نظرِ ثانی کرنے کے سلسلے میں کسی دباؤ کو قبول کیا۔

(محمد عبداللہ چغتائی کی کتاب "صحبتِ اقبال میں” سے ایک اقتباس)

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں