The news is by your side.

Advertisement

فحاشی پر سزا اور جرمانہ

ایک دور میں ملک میں قلم کی آزادی طرح طرح کی پابندیوں اور مختلف بندشوں کے ساتھ سنسر شپ کی وجہ سے متاثر تھی۔

ادیب، فلم ساز اور صحافی موضوعات کے چناؤ میں محتاط رہتے تھے۔ اس وقت علامتی افسانے اور کہانیاں لکھی جاتی تھیں جب کہ مضمون نگار مخصوص طبقات کی ناراضی اور برہمی اور قانون کی گرفت سے بچنے کے لیے احتیاط سے کام لیتے تھے۔ یہاں ہم ایک ایسا ہی ادبی قصّہ آپ کی نذر کررہے ہیں‌ جس کا تعلق آزادیِ اظہار سے ہے اور اس کے نتیجے میں‌ اردو زبان و ادب کی دو مشہور شخصیات کو قید و جرمانہ ہوا۔

علم و ادب کا شوق رکھنے والے قارئین ابراہیم جلیس کے نام سے ضرور واقف ہوں گے جو پاکستان کے مشہور ادیب اور صحافی تھے۔ ان کا قلم طنز و مزاح خوب لکھتا تھا، وہ اپنے فکاہیہ مضامین اور کالم کے ذریعے مختلف معاشرتی مسائل اور سماجی برائیوں کی نشان دہی کرتے رہتے تھے۔ ابراہیم جلیس کے ایک قلم کار دوست اور افسانہ نگار کا نام رفیق چوہدری تھا۔

رفیق چوہدری نے اپنے افسانوں کو کتابی شکل میں شایع کروانے کا فیصلہ کیا اور جب انتخاب اور ترتیب و تدوین کے مراحل طے پاگئے تو انھوں نے ابراہیم جلیس سے دیباچہ لکھنے کو کہا۔

اس افسانوی مجموعہ کا نام ’’محبتوں کے چراغ‘‘ تھا جو ابراہیم جلیس کی تحریر (دیباچہ) کے ساتھ شایع ہوگیا، لیکن اشاعت کے بعد معلوم ہوا کہ مصنّف کی کہانیاں بے حیائی اور فحاشی کے فروغ کا سبب بنی ہیں اور دیباچہ لکھنے والے نے گویا مصنّف کا ساتھ نبھایا ہے اور یوں وہ بھی لائقِ‌ گرفتِ قانون ہے۔

افسانہ نگار اور دیباچہ نویس دونوں کو سرکارِ وقت نے فحاشی کے الزام میں گرفتار کرلیا۔ ان پر مقدّمہ چلا اور تین ماہ قید اور تین ہزار جرمانہ کی سزا سنائی دی گئی۔ مشہور ہے کہ اس واقعہ کے بعد ابراہیم جلیس نے چوہدری رفیق سے کہا:

’’اب تم ناول لکھنا بند کر دو اور میں تمھاری کہانیوں کے دیباچے لکھنا تا کہ دوبارہ یہ دن نہ دیکھنا پڑے۔‘‘

Comments

یہ بھی پڑھیں