نیویارک: ایلون مسک کے پلیٹ فارم ایکس کی جانب سے یہ اعلان سامنے آیا ہے کہ وہ اپنے اے آئی چیٹ بوٹ گروک کو حقیقی افراد کی تصاویر سے کپڑے ہٹانے یا انہیں نیم برہنہ دکھانے سے روکنے کے لیے اقدامات اُٹھا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق مذکورہ فیصلہ خواتین اور بچوں کی جنسی نوعیت کی تصاویر بنانے پر عالمی سطح پر شدید ردِعمل کے بعد سامنے آیا ہے۔
ایکس کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ وہ ان تمام ممالک میں، جہاں ایسا عمل غیر قانونی سمجھا جاتا ہے، گروک اور ایکس کے تمام صارفین کی جانب سے لوگوں کی تصاویر کو ’بکنی، زیرِجامہ اور اسی نوعیت کے لباس‘ میں بنانے کی صلاحیت کو جیو بلاک یعنی علاقائی طور پر بند کر دے گا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ہم نے تکنیکی اقدامات نافذ کر دیے ہیں تاکہ گروک اکاؤنٹ حقیقی افراد کی تصاویر کو بکنی یا دیگر نمایاں لباس میں ایڈٹ کرنے کی اجازت نہ دے۔
واضح رہے کہ یہ پابندی تمام صارفین پر لاگو ہو گی، جن میں بامعاوضہ سبسکرائبرز بھی شامل ہیں۔
ایکس کی جانب سے یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب صرف چند گھنٹے قبل کیلیفورنیا کے اٹارنی جنرل نے ایلون مسک کی کمپنی ایکس اے آئی کے خلاف تحقیقات کا آغاز کیا تھا، جن کا تعلق حالیہ ہفتوں میں ’بغیر رضامندی کے جنسی طور پر واضح مواد‘ کی تیاری سے ہے۔
چیٹ بوٹ ’گروک‘ پر پابندی عائد
ایکس اے آئی پر بین الاقوامی سطح پر دباؤ بڑھ گیا تھا کہ وہ گروک پر قابو پائے، خاص طور پر اس کے نام نہاد ’اسپائسی موڈ‘ فیچر کے بعد، جس کے ذریعے صارفین سادہ تحریری ہدایات جیسے ’اسے بکنی پہنا دو‘ یا ’اس کے کپڑے ہٹا دو‘ لکھ کر خواتین اور بچوں کی جنسی نوعیت کی ڈیپ فیک تصاویر بنا سکتے تھے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


