چین اور روس کے تجارتی معاملات، ڈالرز کے استعمال میں کمی لانے کا فیصلہ
The news is by your side.

Advertisement

چین اور روس کے تجارتی معاملات، ڈالرز کے استعمال میں کمی لانے کا فیصلہ

ماسکو: چین اور روس نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ اپنے تجارتی معاملات میں ڈالرز کا کم سے کم استعمال کریں گے۔

تفصیلات کے مطابق روس اور چین اب تجارتی معاملات میں ڈالرز کے استعمال میں کمی لاکر اپنی کرنسی کا زیادہ سے زیادہ استعمال کریں گے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق روسی صدر ولادی میر پیوٹن نے کہا ہے کہ ماسکو اور بیجنگ حکومتوں نے زیادہ تر تجارتی معاہدوں میں اپنی قومی کرنسی کو استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

روس کی جانب سے اکنامک فارم کا انعقاد روسی شہر ولادی ووسٹوک میں کیا گیا، جہاں چینی صدر شی جن پنگ نے شرکت کی، اس موقع پر ولادی میر پیوٹن کا کہنا تھا کہ اس فیصلے دونوں ملکوں کو استحکام حاصل ہوگا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اس وقت عالمی مارکیٹ میں خطرات موجود ہیں، چین نے بھی اپنی قومی کرنسی استعمال کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

روسی تاریخ کی سب سے بڑی جنگی مشقوں کا آغاز، 3 لاکھ سے زائد فوجی شریک

خیال رہے کہ روس نے اپنی تاریخ کی سب سے بڑی جنگی مشقوں کا آغاز بھی کیا ہے جس میں ہزاروں روسی اور چینی فوجی اپنی قوت کا مظاہرہ کریں گے۔

مذکورہ جنگی مشقوں میں تین لاکھ سے زائد فوجی اہلکار ہزاروں کی تعداد میں ٹینکوں اور سیکڑوں جنگی جہازوں کے ساتھ میدان میں اترے ہیں۔

واضح رہے کہ سرد جنگ کے بعد روس نے چینی سرحد کے قریب اب تک کی سب سے بڑی جنگی مشقیں شروع کی ہیں، بڑے پیمانے پر ان جنگی مشقوں کو ’واسٹاک 2018‘ کا نام دیا گیا ہے، چین کے تین ہزار سے زائد فوجی بھی بکتر بند گاڑیوں اور جہازوں کے ساتھ مشقوں میں شریک ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں