The news is by your side.

Advertisement

ٹیکنالوجی کی دنیا کا یادگارعہد تمام، میسنجر سروس بند

یاہو نے میسنجر سروس 1998 میں متعارف کرائی تھی جسے بند کرنے کا اعلان گزشتہ ماہ کیا گیا تھا

سانس فرانسسکو: انٹرنیٹ کی معروف کمپنی یاہو ’Yahoo‘ نے اپنے میسنجر کو مکمل بند کردیا جس کے بعد ٹیکنالوجی کی دنیا سے ایک یادگار عہد اختتام پذیر ہوا۔

تفصیلات کے مطابق کمپنی کی جانب سے گزشتہ ماہ اعلان کیا گیا تھا کہ جولائی میں صارفین کو دی جانے والی چیٹ سروس ہمیشہ کے لیے ختم کردی جائے گی۔

ٹیکنالوجی پر نظر رکھنے والے ماہرین کا ماننا ہے کہ یاہو میسنجر سروس بند کرنے کے بعد کمیونیکشن کے لیے نئے ٹولز متعارف کرانے کا ارادہ رکھتی ہے تاہم کمپنی کی جانب سے ابھی اس کی کوئی وضاحت نہیں کی گئی۔

واضح رہے کہ دنیا بھر میں انٹرنیٹ کے بڑھتے ہوئے رجحان کو مدنظر رکھتے ہوئے کمپنی نے 9 مارچ 1998 کو میسنجر متعارف کرایا تھا، جس میں دنیا بھر کے مختلف لوگوں کے چیٹ روم میں موجود تھے جہاں صارفین اپنی مرضی سے متعلقہ شخص سے گفتگو کرسکتے تھے۔

مزید پڑھیں: سائبر حملہ، کروڑوں صارفین کے اکاؤنٹ ہیک،’’یاہو‘‘ کی تصدیق

چیٹ میسنجر کی کامیابی کے بعدیاہو نے ایک سال بعد آڈیو اور پھر ویڈیو کے فیچرز کو بھی چیٹ میں شامل کیا تھا، بیس برس قبل انٹرنیٹ پر یاہو اور ایم ایس این  کے درمیان سخت مقابلہ تھا۔

صارفین کی توجہ حاصل کرنے کے لیے Yahoo نے متعدد بار چیٹ روم میں تبدیلیاں کی تاہم فیس بک اور دیگر سماجی رابطے کی ویب سائٹس آنے کے بعد لوگوں کی دلچسپی کم ہوتی گئی اور  وہ میسنجر سے مزید دور ہوئے۔

انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ماہرین کا دعویٰ ہے کہ ’یاہو آئندہ ماہ سے اپنے صارفین کے لیے اسکئرل نامی میسجنگ ایپ متعارف کرانے کا ارادہ رکھتی ہے‘، مگر کمپنی کی جانب سے ابھی اس کی کوئی تردید یا تصدیق نہیں کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: یاہو ! کا مطلب کیا

کمپنی اعلامیے کے مطابق صارفین کو یاہو ای میل کی سہولت دستیاب ہوگی جبکہ وہ 16 جولائی تک کی چیٹ اپنے پاس محفوظ کرسکتے ہیں۔

واضح رہے کہ سماجی رابطے کی ویب سائٹس فیس بک، ٹویٹر آنے کے بعد سے یاہو اور ایم ایس این کو شدید مشکلات درپیش تھیں جو کو مدنظر رکھتے ہوئے MSN نے 2014 میں ہی اپنی چیٹ سروس بند کر کے اسکائپ سے معاہدہ طے کرلیا تھا۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں