The news is by your side.

Advertisement

35فیصد خواتین ڈاکٹر بننے کے بعد پیشے سے منسلک نہیں رہتیں، یاسمین راشد

بچیوں کو ڈاکٹر اچھے رشتے کیلئے بنایا جاتا ہے اور شادی کے بعد بطور ڈاکٹر کردار ادا کرنے کا موقع نہیں دیا جاتا، وزیر صحت پنجاب

لاہور : وزیرصحت پنجاب یاسمین راشد نے کہا ہے کہ35فیصد خواتین ڈاکٹر بننے کے بعد پیشے سے منسلک نہیں رہتیں، بچیوں کو ڈاکٹر اچھے رشتے کیلئے بنایا جاتا ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے اے آر وائی نیوز کے پروگرام سوال یہ ہے میں میزبان ماریہ میمن سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا، یاسمین راشد نے کہا کہ ملک کے مختلف میڈیکل کالجز سے کامیاب ہونے والی35فیصد خواتین ڈاکٹرز اپنے فرائض انجام نہیں دے رہی ہیں۔

وزیرصحت پنجاب نے کہا کہ میڈیکل کالج میں داخلہ لینے والی لڑکیوں کی تعداد زیادہ ہے،18سال مہنگی تعلیم حاصل کرنے کے بعد اپنے ہنر کا اظہار نہ کیا جائے تو غلط ہے۔

 یاسمین راشد کا مزید کہنا تھا کہ ایک تاثر یہ بھی ہے کہ بچیوں کو ڈاکٹر اچھے رشتے کیلئے بنایا جاتا ہے اور بد قسمتی سے شادی کے بعد بچیوں کو بطور ڈاکٹرز کردار ادا کرنے کا موقع نہیں دیا جاتا۔

انہوں نے کہا کہ میڈیکل کے طالب علم کی پڑھائی پر30سے40لاکھ روپے خرچ آتا ہے، پرائیوٹ کالجز میں بھی لڑکوں کی نسبت لڑکیوں کی تعداد زیادہ ہے، اس کے علاوہ میڈیکل طالبعلم پر پرائیوٹ کالجز میں بھی سالانہ 10لاکھ روپے خرچ ہوتے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ لیڈی ڈاکٹرز ٹیلی میڈسن کے ذریعے بھی اپنے ہنر کا مظاہرہ کر کے ملک و قوم کی خدمت کرسکتی ہیں، لیڈی ڈاکٹرز کیلئے ٹیلی میڈسن کو اہمیت دے رہے ہیں۔

وزیرصحت نے کہا کہ سوچ میں تبدیلی کے لئے ہم سب کو شعور اجاگر کرنا ہوگا، آبادی کا51فیصد طبقہ ملکی ترقی کیلئے اپنا کردار ادا نہیں کرے گا تو معاشرے میں تبدیلی ناممکن ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں