The news is by your side.

Advertisement

ادویات کی قیمتوں میں 17 سال بعد اضافہ ہوا، مگر زیادہ نہیں، ڈاکٹر یاسمین راشد

چکوال: پنجاب کی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے کہا ہے کہ دواؤں کی قیمتوں میں 2003 کے بعد کوئی اضافہ نہیں کیا گیا، ابھی جو قیمت بڑھائی گئی وہ زیادہ نہیں ہے۔

اے آر وائی نیوز کی رپورٹ کے مطابق صوبائی وزیر صحت پنجاب ڈاکٹر یاسمین راشد نے چکوال کا دورہ کیا۔ اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ ’ادویات کی قیمتیں 17 سال سے نہیں بڑھائیں گئیں تھیں، اضافہ بہت ضروری تھا کیونکہ خام مال مہنگا ہوگیا ہے‘۔

اُن کا کہنا تھا کہ ادویات کی قیمتوں میں جو حالیہ اضافہ کیا گیا وہ زیادہ نہیں ہے، صورت حال کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت نے تھوڑے ہی پیسے بڑھائیں ہیں۔

ڈاکٹر یاسمین راشد کا کہنا تھا کہ ’نوازشریف نے معاہدے کی پاسداری نہیں کیں، انہوں نے لندن پہنچنے کے بعد اپنی میڈیکل رپورٹس ارسال نہیں کیں، حکومت نے انہیں انسانی ہمدردی کے تحت باہر بھیجا تھا مگر نوازشریف نے باہر جاکر سیاست شروع کردی ہے‘۔

صوبائی وزیر صحت کا کہنا تھا کہ ’نواز شریف کی طبیعت یہاں بہتر نہ ہوتی تو شائد انہیں کوئی طیارے پر چڑھنے بھی نہیں دیتا، ہمیں امید تھی کہ وہ علاج مکمل کروا کے دو ماہ میں واپس آجائیں گے مگر وہ اپنی بات پر پورا نہیں اترے‘۔

مزید پڑھیں: ڈاکٹرفیصل سلطان نے 94 ادویات کی قیمتوں میں اضافے کو ناگزیر قرار دے دیا

یاد رہے کہ دو روز قبل وزیراعظم کے معاونِ خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے 94 ادویات کی قیمتوں میں اضافے کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ حکومت قیمتوں میں اضافے کے معاملے پر دباؤں میں نہیں آئی، ادویات کی قیمتیں اتنی بڑھائی گئیں کہ لوگوں تک اُن کی پہنچ ہوسکے۔

ان کا کہنا تھا کہ ‌ڈریپ نے94 اہم دواؤں کی قیمتوں میں اضافہ کیا، 94 ادویات کی قیمتوں میں مناسب اضافہ کیاگیا ہے جو مجبوری و ناگزیر تھا۔

ڈاکٹرفیصل سلطان کا کہنا تھا کہ پرانےفارمولے اور زندگی بچانے والی ادویات کی قیتموں میں ہی اضافہ کیا گیا کیونکہ ادویہ ساز کمپنیوں نے قیمتیں نہ بڑھنے پر بعض دواؤں کی پیداوار روک دی تھی، جس کی وجہ سے قلت پیدا ہوئی۔

معاون خصوصی برائے صحت نے کہا کہ قیمتوں میں مناسب اضافے سےدواؤں کی دستیابی یقینی بنائی ہے، ڈریپ ملک میں دواؤں کی دستیابی یقینی بنارہی ہے، 94 دواؤں کی قیمتوں میں ڈیڑھ تا 70فیصد اضافہ ہوا، قیمتیں اتنی بڑھائی ہیں کہ لوگوں تک پہنچ سکیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں