The news is by your side.

Advertisement

فرانس: یلو ویسٹ مظاہرین کا یہودی مخالف نعرے، صدر میکرون کی مذمت

پیرس : فرانسیسی صدر نے دارالحکومت میں ’یلو ویسٹ تحریک‘ کے ایک گروپ کی جانب سے یہودیت مخالف حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔

تفصیلات کے مطابق فرانس کے دارالحکومت پیرس سمیت کئی شہروں میں یلو ویسٹ تحریک کے تحت موجودہ حکومت کی غلط پالیسیوں کے خلاف شدید احتجاج جاری ہے اور مظاہرین کی جانب سے مسلسل صدر کے استعفے کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔

فرانسیسی صدر ایمینئول میکرون کا کہنا ہے کہ مظاہرہ کرنے والوں سے بات چیت کے ذریعے معاملات حل کرنے کی کوشش کی گئی جو فرانس کے عظیم ہونے کی نشانہ ہے لیکن ریاست کے خلاف کوئی عمل برداشت نہیں کیا جائے گا۔

غیر ملکی میڈیا کا کہنا ہے کہ فرانس میں بڑھتے ہوئے یہودیت مخالف (اینٹی سیمیٹک) حملوں کے پیش نظر پولیس نے فلاسفر الائن فنکیل کروٹ کو پروٹوکول فراہم کردیا ہے۔

مقامی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ تحقیق کاروں نے یہودی مخالف حملے کرنے والے اہم مجرم کو شناخت کرلیا ہے جس کے خلاف قانونی فوری قانونی کارروائی کی جائے گی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ پیرس میں یہودی پروفیسر الائن کو یلو ویسٹ تحریک کے تحت مظاہرہ کرنے والے ایک گروپ نے زبانی طور بے توقیری کا نشانہ بنایا ہے۔

مقامی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ 69 سالہ یہودی پروفیسر نے سنا کہ کچھ لوگ چیخ رہے تھے کہ ’گھٹیا یہودیوں‘ خود کو نہر میں پھینک دو۔

فرانسیسی صدر میکرون نے متاثرہ پروفیسر نے ٹیلی فونک رابطہ کرتے ہوئے یہودی مخالف حملوں کی شدید مذمت کی۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق یلو ویسٹ تحریک کے تحت ہفتے کے روز دسیوں ہزار افراد نے حکومت مخالف مظاہروں میں شرکت کی اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی تھی جنہیں منتشر کرنے کےلیے پولیس آنسو گیس کا آزادنہ استعمال کیا۔

مزید پڑھیں : پیرس : یہودی مخالف افراد کا بیکری پر نسل پرستانہ حملہ

یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے فرانس میں یہودی مخالف افراد نے بیکری پر نسل پرستانہ جملہ تحریر کردیا، بیکری کے مالک کا کہنا ہےکہ فرانس میں گزشتہ برس سے یہودی مخالف واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔

بیکری مالک کا کہنا تھا کہ گرافیتی (نقش کاری) میں بہت اہمیت کا حامل ہے صرف اس لیے نہیں کہ فرانس میں یلو ویسٹ مظاہرے ہورہے ہیں بلکہ ماضی میں نازی فورسز یہودیوں کو بازو پر ایک یلو رنگ کا بینڈ پہننے پر مجبور کرتی تھیں جس پر چھ کونوں کا ستارہ بنا ہوتا تھا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں