یمن میں خانہ جنگی، امدادی سامان کی ترسیل میں رکاوٹیں: YEMEN
The news is by your side.

Advertisement

یمن میں خانہ جنگی، امدادی سامان کی ترسیل میں رکاوٹیں

صنعا: یمن میں سعودی اتحادی افواج اور حوثی باغیوں کے درمیان لڑائی سے محصور عوام تک امدادی سامان کی ترسیل میں رکاوٹیں پیش آرہی ہیں۔

تفصیلات کے مطابق گذشتہ دنوں سعودی عرب کے اتحادی افواج کی جانب سے یمن کے اہم اور مرکزی بندرگاہ الحدیدہ پر فوجی آپریشن شروع کیا گیا ہے جس کا مقصد حوثی باغیوں کو بندرگاہ سے خالی کرانا ہے۔

غیر ملکی خبررساں ادارے کا کہنا ہے کہ سعودی اتحادی افواج اور حوثی باغیوں کے درمیان جاری جنگ سے علاقے میں شدید خانہ جنگی کی صورت حال ہے جس کے باعث محصور عوام تک خانے پینے، دوائیاں اور دیگر امدادی سامان کی ترسیل میں رکاوٹیں پیش آرہی ہیں۔


یمن: سعودی اتحادی افواج کا آپریشن، ایئرپورٹ کے داخلی راستے پر کنٹرول سنبھال لیا


عالمی امدادی تنظیم (ایمنسٹی انٹرنیشنل) کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یمن میں خانہ جنگی کے متحارب فریق الحدیدہ میں امدادی سامان کی ترسیل میں رخنے ڈال رہے ہیں، اس بندرگاہی شہر میں جاری لڑائی کی وجہ سے وہاں انسانی المیے کی صورتحال شدید تر ہو چکی ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ سعودی اتحادی افواج اور حوثی باغی دونوں امدادی سامان کی ترسیل میں رکاوٹوں کی وجہ بن رہے ہیں، علاقے میں لوگوں کی صورت حال انتہائی ابتر ہے، جلد مسائل کا حل نکالا جائے۔


سعودی اتحادی افواج کی یمن میں کارروائی، اقوام متحدہ کا اظہار تشویش


خیال رہے کہ سعودی عرب کی قیادت میں قائم عسکری اتحاد نے اس اسٹریٹیجک نوعیت کی بندرگاہ کی بازیابی کا فوجی آپریشن بدھ تیرہ جون سے شروع کر رکھا ہے۔

واضح رہے کہ اقوام متحدہ نے سعودی عرب کی جانب سے اس آپریشن کے آغاز پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے، جاری کردہ بیان میں کہا گیا تھا کہ سعودی عرب اور حوثی باغیوں کو لڑائی کے بجائے مذاکرات کے میز پر آنا چاہیے، لڑائی مسئلے کا حل نہیں اس سے نقصان ہوگا۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں