The news is by your side.

Advertisement

بھارت: یوگا گرو سے بیان واپس لینے کا مطالبہ

نئی دہلی: بھارتی وزیر صحت نے ملک کے نامور یوگا گرو بابا رامدیو سے طبی عملے کی حوصلہ شکنی پر مبنی بیان واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق بھارت کے نامور یوگی گرو بابا رامدیو نے طبی کارکنان پر ملک میں کرونا وائرس کی بڑھتی اموات کا الزام لگایا تھا، جس پر ڈاکٹرز کی جانب سے شدید غم و غصے کا اظہار کیا گیا۔

بیان پر سخت رد عمل کے بعد وزیر صحت ڈاکٹر ہرش وردھن نے ایک خط لکھ کر بیان واپس لینے کے لیے کہا ہے، وزیر صحت نے لکھا کہ آپ نے نہ صرف کرونا کے خلاف لڑنے والوں کی تذلیل کی ہے بلکہ ملک کے لوگوں کو دکھ بھی دیا ہے۔

وزیر صحت نے بابا رامدیو سے اس بارے میں گہرائی سے سوچنے اور اپنا بیان مکمل طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا۔

اس سے قبل انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن نے حکومت سے بابا رامدیو کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا تھا، تنظیم کے سیکریٹری ڈاکٹر جیش نے میڈیا کو بتایا کہ ہم نے یوگا گرو کے خلاف کیس دائر کر رکھا ہے، انھیں قانونی نوٹس بھی بھجوایا گیا، رامدیو کا بیان طبی کارکنان کی حوصلہ شکنی تھا، اور یہ کرونا وائرس کے خلاف لڑائی کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

تنظیم کا مؤقف ہے کہ یوگا گرو رامدیو کے بیانات سے لوگ متاثر ہوں گے، اور وہ اسپتال جانے سے ہچکچائیں گے، علاج کو ٹالیں گے اور اس طرح وائرس کا شکار بنیں گے، اس لیے حکومت کو ان کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے۔

یاد رہے کہ گرو رامدیو کو بھارت میں ایک بڑی تعداد مانتی ہے، جمعرات کو انھوں نے شمالی انڈیا کے شہر ہریدوار میں طبی کارکنان کو ملک میں کرونا وائرس کی دوسری لہر کے دوران اموات کی بڑی تعداد کے لیے قصور وار ٹھہرایا تھا۔

اپنے عقیدت مندوں سے انھوں نے کہا تھا کہ لاکھوں مریض ایلوپیتھک دواؤں کی وجہ سے ہلاک ہوئے ہیں، آکسیجن کی کمی کے باعث نہیں۔ خیال رہے کہ بابا رامدیو کا ہریدوار میں ایک یوگا سینٹر ہے جہاں وہ آیورویدک دواؤں کا 10 کروڑ ڈالر کا کاروبار بھی سنبھالتے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں