The news is by your side.

Advertisement

پنجاب میں ینگ ڈاکٹرز کا احتجاج جاری، ایم ٹی آئی ایکٹ واپس لینے کا مطالبہ

لاہور : سرکار اور ڈاکٹرز کی لڑائی میں مریضوں کی شامت آگئی، پنجاب کے سرکاری اسپتالوں میں ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال نویں روز بھی جاری ہے، روزے میں مریض در در بھٹکتے رہے، ینگ ڈاکٹرز نے باہتر گھنٹے میں ایم ٹی آئی ایکٹ واپس لینے کا مطالبہ کردیا۔

تفصیلات کے مطابق پنجاب کے مختلف شہروں لاہور، ملتان، فیصل آباد، گوجرانوالہ سمیت بیشتر مقامات پر ینگ ڈاکٹرز کا احتجاج جاری ہے، ایک جانب مسیحاؤں کی ہٹ دھرمی برقرار ہے تو دوسری طرف پنجاب حکومت بھی کچھ کرنے کو تیار نہیں ہے۔

صوبے کے سرکاری اسپتالوں میں نویں روز بھی ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف اپنے مطالبات کے حق میں احتجاجاً کام چھوڑ ہڑتال پر بیٹھے رہے۔ ا

س دوران مریض اور ان کے ساتھ آنے والے تیمار دار روزہ کی حالت میں یہاں سے وہاں رلتے رہے لیکن ان کی کوئی شنوائی نہیں ہورہی، جس کے باعث انہیں مزید اذیت کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔

مجوزہ نجکاری کیخلاف سراپا احتجاج ینگ ڈاکٹرز نے حکومت سے72گھنٹے میں میڈیکل ٹیچنگ انسٹی ٹیوٹ ریفارمز ایکٹ (ایم ٹی آئی) ایکٹ واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

اس حوالے سے فیصل آباد میں ینگ ڈاکٹرز، نرسز اور پیرامیڈیکس تنظیموں نے مشترکہ پریس کانفرنس کی، مقررین کا کہنا تھا کہ ایم ٹی آئی ایکٹ کے نفاذ سے سرکاری اسپتالوں میں ڈاکٹر اور طبی عملہ سرکاری ملازم نہیں رہیں گے۔

انہیں پینشن اور دیگر مراعات نہیں ملیں گی، خیبرپختون خوا اس کی زندہ مثال ہے جہاں مریضوں سے مفت علاج کی سہولیات بھی چھین لی گئی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں